207

ابو میرے گھر میں آپ کو رکھنے کے لیے جگہ نہیں، باپ تو نو بچے پال لیتا ہے نو بچے ایک باپ کو کیوں نہیں رکھ پاتے، دل پگھلا دینے والی داستان

پڑوسی ملک بھارت کی ایک فلم باغبان جب بہت مشہور ہوئی تو اکثر لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا اور ہم خدا اور رسول کے احکامات کے مطابق اپنے والدین کو بہت عزت دیتے ہیں۔ ماں کے پیروں تلے جنت ہوتی ہے اور اس جنت کو ناراض کرنے کا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہیں-

لیکن کتابی باتوں کے مقابلے میں حقیقت اس سے کافی بر عکس ہے ماں باپ کی اولاد سے محبت تو اب بھی موجود ہے والدین تو نو بچوں کو بھی نہ صرف پال لیتے ہیں بلکہ ان کو اچھی تعلیم و تربیت بھی دے دیتے ہیں مگر یہی بچے جب بوڑھے ماں باپ کو دیکھتے ہیں تو ان کی نظر میں ان کے والدین رحمت اور دعاؤں کا ذریعہ بننےکے بجائے بوجھ بن جاتے ہیں-

حالیہ دنوں میں سوشل میڈيا کی توسط سے ایک بزرگ کا انٹرویو نظر سے گزرا بزرگ کراچی کے علاقے گولیمار کی مسجد اور امام بارگاہ کے فریب ایک کمرے کے کرائے کے مکان میں 8000 روپے مہینے پر رہائش پزیر ہیں۔ وہ اس گھر میں تنہا رہنے پر مجبور ہیں ان کی عمر 76 سال ہے اور ان کی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے

ان کی اس تنہائی کو دیکھ کر یہ محسوس ہو سکتا ہے کہ وہ شائد بے اولاد ہیں مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور ان کو اللہ نے نو بچوں سے نوازہ ہے جن مین تین بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں-

اپنے بچوں کی اچھی پرورش کے لیے ان بزرگ نے، جن کا نام سوشل میڈيا کی ویڈيو میں ظاہر نہیں کیا گیا ، پردیس میں طویل عرصے تک نوکری کی جس کے نتیجے میں کراچی کے علاقے ملیر میں ایک گھر ایک پلاٹ اور کچھ سونے کے زيورات لینے میں کامیاب ہو گئے-

مگر بیوی کے مرنے کے بعد بچوں کی ذمہ داری کے سبب اب ان کے لیے بیرون ملک رہنا ممکن نہ تھا ۔ان کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان واپس آکر انہوں نے اپنے سارے بچوں کی شادی خود کی جس کے نتیجے میں ان کو اپنی تمام جائیدادیں بھی فروخت کرنی پڑیں-

شادی کے بعد سب بچے اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو گئے اور ان کو باپ ایک بوجھ لگنے لگا جس کی وجہ سے باپ کی جگہ ایک مختصر سا کرائے کا کمرہ اور تنہائی رہ گئی۔ اپنی بے بسی کو بیان کرتے ہوئے ان بزرگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ عیدا الاضحیٰ کے موقع پر انہوں نے اپنے بڑے بیٹے سے درخواست کی کہ اس چھوٹے سے کمرے میں عید قربان کے سبب باہر گلی سے کافی تعفن آئے گا تو وہ عید کے کچھ دنوں کے لیے اس کے پاس آنا چاہتے ہیں

ان کے بیٹے نے ان سے کہا کہ وہ اپنی بیوی سے پوچھ کر بتاتا ہے۔ یہ بزرگ بڑے مان کے ساتھ اپنے بیٹے کے فلیٹ پر چلے گۓ جو تیسری منزل پر واقع ہے جب وہاں پہنچے تو ان کے بیٹے نے ان کو یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ان کا گھر صرف دو کمروں کا ہے اور وہ ان کو نہیں رکھ سکتا ہے

ان بزرگ نے اپنے دکھ بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ بیٹیاں باپ سے بہت پیار کرتی ہیں مگر ان کی بیٹیوں نے بھی کبھی ان سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے

اپنے بچوں کے ظلم کا شکار یہ بزرگ 76 سال کی عمر میں کسی قسم کا کام کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں- اس حوالے سے اس ویڈیو کی توسط سے انہوں نے سب سے یہ درخواست کی ہے کہ انکی مدد کی جائے تاکہ وہ روز مرہ کے اخراجات اور ادویات اور کمرے کا کرایہ ادا کر سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں