اب کوئی خطرناک جنگلی جانوروں کے ساتھ یہ کام نہیں کرسکے گا،حکومت نے پابندی عائد کردی

 لاہور(ویب ڈیسک)خطرناک جنگلی جانوروں اور پرندوں کے ساتھ ٹک ٹاک بنانے والے ہوجائیں ہشیار،اب آپ کو یہ حرکت مہنگی پڑسکتی ہے، خاطرناک جانوروں کے ساتھ بریڈنگ فارم کی حدود اور پنجرے سے باہر تصویراور ویڈیوبنانے والوں کو تین لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ قید ہوسکتی ہے۔پنجاب وائلڈ لائف نے کراچی میں 10 سالہ بچے پرپالتوشیر کے حملے اور سوشل میڈیا پر جنگلی جانوروں اور پرندوں خاص طور شیروں کے ساتھ شہرت اورخودنمائی کے لیے ٹک ٹاک بنانے

والوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیاہے۔جبکہ بریڈنگ فارم سے باہر گھروں میں خطرناک جنگلی جانور اور پرندے رکھنے والوں کی مانیٹرنگ کی جائیگی۔ڈسٹرکٹ وائلڈلائف آفیسرلاہور تنویرجنجوعہ کے مطابق ڈی جی وائلڈلائف کی ہدایت پرڈپٹی ڈائریکٹرہیڈکوارٹرز نےلاہورسمیت پنجاب میں موجود تمام بریڈنگ فارمز کے مالکان کو نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ بریڈنگ فارم سے باہر کسی کو جنگلی جانوراور پرندے تشہیر،خودنمائی،سیلفی، ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے لے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسے عناصر پر اب سختی سے نظر رکھی جائیگی جو اپنے گھروں ،رہائشی ایریا،بازار،مارکیٹ یاکسی تقریب میں خطرناک جنگلی جانوروں کو نمائش کے لیے لیکر آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بریڈنگ فارمز کی رجسٹریشن مقصد نایاب جنگلی جانوروں اور پرندوں کی افزائش بڑھانا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر ان خطرناک جانوروں پر پرندوں کو نمود ونمائش، خودنمائی اور ٹک ٹاک ویڈیوز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ عمل جہاں ان جنگلی جانوروں اور پرندوں کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے وہیں انتہائی خطرناک بھی یے جس کی تازہ مثال کراچی میں سامنے آئی ہے۔نویرجنجوعہ نے بتایا پنجاب وائلڈلائف ایکٹ کے تحت ایس اوپیز کے مطابق جنگلی جانور اور پرندے مخصوص پنجروں اور ایریا میں نہ رکھنے والوں کیخلاف ناصرف پنجاب وائلائف ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی بلکہ خطرناک جنگلی جانوروں کے ساتھ پنجرے سے باہر ٹک ٹاک اور نمودنماش کرنے والوں کیخلاف کریمنل ایکٹ کے تحت پولیس کو کارروائی کی درخواست دی جائیگی۔پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 289 اور 337 شق 4 کے تحت کارروائی ہوگی جس میں تین لاکھ روپے جرمانہ، 6 ماہ تک قید یادونوں سزائیں ہوسکتی ہیںواضح رہے کہ جنگلی حیات کے ساتھ ٹک ٹاک،ان کی نمود ونمائش کی ویڈیوزسوشل میڈیا پر شیئرہونے کے بعد جنگی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ملکی اور غیرملکی این جی اوز کی طرف سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں