الیکٹرانک ووٹنگ کی حکومتی سرپرستی میں تیار کوئی اسکیم منظور نہیں

انتخابی اصلاحات الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے، حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے نام پرالیکشن چرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ سیکرٹری جنرل(ن) لیگ احسن اقبال

الیکٹرانک ووٹنگ کی حکومتی سرپرستی میں تیار کوئی اسکیم منظور نہیں

پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے نام پر اگلا الیکشن چرانے کا نیا منصوبہ بنا رہی ہے، انتخابی اصلاحات الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے، حکومتی سرپرستی میں تیار کوئی اسکیم منظور نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چھ ماہ میں الیکٹرانک مشینیں خریدنے کی ہدایت پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے نام پر اگلے الیکشن کو چرانے کا آرٹی ایس کی طرز پہ دھاندلی کا نیا منصوبہ بنا رہی ہے- انتخابی اصلاحات الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے جسے اسے سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے کرنا ہوتا ہے- کسی ایسی سکیم کو جو حکومتی سرپرستی میں تیار ہو اسے منظور نہیں کیا جائے گا- خیال رہے حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کیلئے قانونی اور تیکنیکی انتظامات مکمل کرنے کی ڈیڈلائن مقرر کردی گئی، وزیراعظم نے 6 مہینے میں الیکٹرانگ ووٹنگ کیلئے مشینیں خریدنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ کابینہ ارکان نے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم سکیورٹی پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

کابینہ ارکان نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کی ہیکنگ سے نتائج تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔کینیا اور گھانا میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کی ہیکنگ کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کوآرڈیننس کے ذریعے ووٹنگ کا حق دینے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن کی مشاورت سے ایک ماہ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی قسم کو حتمی شکل دی جائے۔مشیر پارلیمانی امور ایک ماہ میں ووٹنگ مشینوں کیلئے متعلقہ قوانین میں ترامیم کریں۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں