امارات میں 50 سال پہلے بغیردستاویزات آنے والے پاکستانی نے کامیابی کی داستان سُنا دی

امارات میں 50 سال پہلے بغیردستاویزات آنے والے پاکستانی نے کامیابی کی ..

انسان محنت کرے تو کونسا مقام ہے جو حاصل نہیں کر سکتا۔ کچھ ایسی ہی داستان پاکستانی شہری بشیر احمد خان کی ہے جو متحدہ عرب امارات کے قیام کے صرف ایک سال بعد دُبئی پہنچے تھے اور اب جب امارات کو پچاس سال ہونے والے ہیں تو وہ واپس پاکستان جا رہے ہیں۔ 74 سالہ بشیر احمد نے بتایا کہ وہ 24 سال کی عمر میں رمضان المبارک کے مہینے میں ہی دُبئی پہنچے تھے۔

ان کا تعلق آزاد کشمیر کے پونچھ سیکٹر کے گاؤں حجیرہ سے تھا۔ انہیں دُبئی جانے کا شوق پیدا ہوئے تو 12 سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے پہلے کراچی پہنچے اور پھر لکڑی کی ایک لانچ پر بیٹھ پر پانچ روز کے سفر کے بعد امارات پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ جس پر انہوں نے ملاح کو 3 سو روپے ادا کیے تھے۔

اُوپر سے ملاح نے انہیں اومانی سلطنت کے ساحل پر اُتار دیا تھا۔ جہاں سے راس الخیمہ زیادہ دور نہیں تھا تاہم اس وقت یہ ریاست متحدہ عرب امارات میں شامل نہیں ہوئی تھی۔ عمانی پولیس کی پوچھ گچھ پر انہوں نے بتایا کہ وہ امارات جانا چاہتے ہیں۔ تو انہیں راس الخیمہ جانے والی ایک گاڑی پر سوار کرایا گیا۔ جہاں سے وہ ایک اور شخص کی مہربانی سے بالآخر دُبئی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

۔ یہاں پر انہوں نے اپنے گاؤں کے ایک کاروباری شخص کے بنائے قادر ہوٹل پر کچھ روز گزارے ۔ اور پھر دیہاڑی دار مزدور کا کام شروع کر دیا۔ اس دور میں امارات میں بھارتی روپیہ بطور کرنسی استعمال ہوتا تھا۔ انہوں نے روز 10 روپے کی دیہاڑی لگائی۔ یہیں انہیں ایک بحری جہاز کے مالک اسپینش باشندے گورڈن نے اپنے جہاز پر کام کرنے کی پیشکش کی۔ یہاں انہوں نے چھ مہینے تک مشین اور انجن کو تیل دینے کی معمولی مزدوری کی مگر اپنی محنت سے انہیں جہاز کا چیف انجینئر بنا دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ بحری جہاز پر سعودیہ میں تھے تو انہیں نمونیہ ہو گیا۔ کمپنی والوں نے جہاز کے ذریعے انہیں دُبئی بُلوایا ۔ مگر پاسپورٹ اور ویزہ نہ ہونے کے باعث امیگریشن والوں نے روک لیا۔ تاہم ان کی بیماری کی وجہ سے ان سے کوئی سختی نہ کی گئی۔ ڈیلی گلف اُردو کے مطابق بشیر احمد نے بتایا ” بالآخر میری کمپنی کے پبلک ریلیشنز آفیسر سے رابطہ کیا گیا جس نے ایئرپورٹ انتظامیہ کو گارنٹی دی کہ میرے پیپر ورک جلد تیار کر لیے جائیں گے۔

اسی دوران میں نے پاکستانی ایمبیسی سے رابطہ کر کے امارات کا ویزہ حاصل کر لیا۔ اس وقت میں ویزہ حاصل کرنا بہت آسان اور تیز ترین تھا۔ نمونیہ کی وجہ سے میں کئی ماہ تک دُبئی کے راشد ہسپتال میں زیر علاج رہا اور پھر اپنی کمپنی میں واپس لوٹ گیا۔ اس بار انہوں نے مجھے ایک نیا پراجیکٹ سونپا جو کہ دُبئی سے دُور فتح آئل فیلڈ پر بار بار کا سمندری سفر تھا۔

ایک سال کے بعد مجھے شپ کیپٹن کا لائسنس مل گیا اور پہلی بار میں ایک پرائیویٹ لگژڑی یاٹ کا کپتان مقرر ہوا۔ میرا کام یاٹ کے مالک کے مہمانوں کو جزیروں کی سیر پر لے جانا تھا، جہاں وہ ماہی گیری کرتے، جھینگے پکڑتے اور ویک اینڈ سمندر میں گزارتے تھے۔ ان دنوں آپ دُبئی میں ایک درہم کا پورا چکن لے سکتے تھے یا ٹیکسی پر سارے شہر کی سیر کر سکتے تھے اور 2 درہم میں آپ شیئرنگ ٹیکسی کے ذریعے شارجہ کا سفر کر سکتے تھے۔

جبکہ دُبئی میں پورا اپارٹمنٹ سال بھر کے لیے ایک ہزار درہم میں مل جاتا تھا۔ میں نے یہاں کام کا خوب لطف اُٹھایا ہے۔ میری تنخواہ 3 ہزار درہم ماہانہ تھی۔ اس کے علاوہ مہمانوں سے بھی ٹِپ کے طور پر اچھی رقم مل جاتی تھی ۔ 1978ء میں یہ تنخواہ بہت اچھی تھی۔ اس کے بعد مجھے ایک شخص نے ڈائیونگ سروس کے لیے بطور کپتان ہائر کیا۔ 1994ء تک بشیر نے اس کے ساتھ کام کیا، مگر پھر جب اس کی صحت بگڑ گئی اور 1994ء میں اوپن ہارٹ سرجری اور اینجیو پلاسٹی ہوئی تو اس نے یہ ملازمت چھوڑ دی۔

بشیر احمد رمضان کے روزے مکمل ہونے کے بعد اگلے چند روز میں ہمیشہ کے لیے پاکستان رخصت ہو رہا ہے۔ بشیر احمد کی بیوی بچے 1987ء سے 2015ء تک ان کے ساتھ مقیم رہے۔ پھر اس نے بیوی بچوں کو واپس پاکستان بھجوا دیا اور اب وہ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے کے لیے واپس جا رہے ہیں۔ پاکستانی بزرگ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ بشیر کا کہنا ہے کہ میں امارات میں ملازمت کو خوب انجوائے کیا ہے۔

شروع کے سالوں میں یہاں زندگی سادہ اور تناؤ سے پاک تھی۔ اس وقت رات بھر دیر سے جگانے کے لیے شاپنگ مالز اور موبائل فونز نہیں تھی۔ اس لیے زیادہ دیر کی اور پُرسکون نیند میسر ہوتی تھی۔ اس کے ابتدائی سالوں میں صرف ڈیرہ اور بُر دُبئی ہی تعمیر ہوا تاھ۔ جبکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پورے خلیجی خطے کی بلند ترین عمارت تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں