امریکہ کو اڈے دینے کا پاکستان کو کیا نقصان ہوگا؟ مولانا فضل الرحمان بول پڑے

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان کے خلاف امریکا کو اڈے فراہم کیے تو افغانستان سمیت ایران اور چین کا اعتماد کھو بیٹھیں گے۔شہباز شریف کو دیے گئے عشائیہ کی دعوت کے بعد اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے

ہوئےمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغانستان میں امریکا شکست کھا چکا ہے مگر اب وہ پاکستان میں بیٹھنا چاہتا ہے، اگر بلوچستان میں اڈے دیئے گئے تو پھر ایران، افغانستان اور چین کا اعتماد کھو بیٹھیں گے، ان حکمرانوں کو خارجہ کے اصولوں کے بارے میں علم تک نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ میں صرف جھوٹ بولا جائے گا کہ ہماری معیشت بہتر نہیں ہورہی ہے، کیا صرف بہار آنے سے سردی اور گرمی ختم ہو جائے گی۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ پہلی بار پاکستان میں ایسا ہوا کہ مرض تو آئے مگر علاج کی کوئی صورت نہیں ہے، یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہے، ان نااہلوں کو اب سہارا دینا جرم ہے،

اداروں، سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے، اداروں کو تباہ کیا جارہا ہے، ہر جگہ پر حملے ہورہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے دینی مدارس پر بھی نقب لگائی گئی اور ڈمی بورڈز متعارف کروائے گیے، اداروں کو قومی دھارے اور اصلاح کرنا تھا مگر یک دم توڑ پھوڑ پیدا کرکے بدنیتی ظاہر ہوچکی ہے، وقف املاک بورڈ پاکستان کے آئین اور بنیادی حقوق کی نفی ہے اسے نظریاتی کونسل میں بھجوانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج خرابیوں کو دور کرنے کے لئے نئے نئے آرڈیننس لائے جارہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ کل مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا، اجلاس میں تمام ممبر جماعتیں موجود ہوں گی، اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی شرکت کرے گی۔قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ پی ڈی ایم ایک فورم ہے، یہاں مشاورت اور متفقہ طور پر فیصلے ہوتے ہیں، میری ذاتی کوئی رائے نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ملکی صورتحال اور بجٹ کی صورتحال پر غور ہوگا جب کہ افغانستان کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوگی، امریکی افواج کے انخلاء کے بعد پڑوسی ملک میں امن چاہتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر جاری ہے مگر ڈیڑھ سال کے عرصے میں حکومت نے کیا اقدام کیا؟ کیا اس سے زیادہ کوئی مجرمانہ غفلت ہوسکتی ہے؟ ہم نے صرف امداد میں ملنے والے ٹیکوں پر اکتفا کیا ہے، چینی، گندم اور سبسڈیز میں کرپشن کا پیسہ ضائع کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں