بینچ پر بیٹھے ججز اگر منی ٹریل دینے کے پابند نہیں تو کٹہرے میں کھڑا شخص بھی اخلاقی طور ر پابند نہیں کہ اپنے اثاثوں کی وضاحتیں دے،وفاقی وزیر کا عدلیہ پر طنز

قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے پر ہمیں اعتراض ہے مگر عدالت کے فیصلے کی ..

وفاقی وزیراسد عمر نے نجی ٹی چینل کے ایک پروگرام میں کہا کہ مجھ سمیت پی ٹی آئی کی حکومت کو سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ کیس سے متعلق فیصلے پر نہ صرف اعتراض ہے بلکہ بے حد مایوسی بھی ہوئی ہے مگر ہم عدلیہ کی عزت کرتے ہیں اور معزز عدالت کی طرف سے آنے والے فیصلے کی بھی۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ججز اپنے اثاثوں کی منی ٹریل دینے کے پابند نہیں ہیں۔کیا وہ پاکستانی شہری نہیں ہیں۔اگر ایک عام پاکستانی اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند ہے اور وہ منی ٹریل بھی دیتا ہے اور عدالت کے علاوہ دیگر معزز اداروں میں بھی جوابدہ ہے تو پھر عدلیہ کے لوگ جوابدہ کیوں نہیں ہیں۔اسد عمر نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو کوئی بھی شخص اخلاقی طور پر یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کی تفصیل کیوں دے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کوئی بھی شخص عدالت میں جا کر یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر میرے سامنے بینچ پر بیٹھے جج اپنی منی ٹریل دینے کے پابند نہیں ہیں تو کٹہرے میں کھڑا میں کیوں اپنے اثاثے ظاہر کروں؟جائیں میں بھی نہیں بتاتا کہ میں نے جائیداد کہاں سے اکٹھی کی۔اسد عمر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کیس حکومت نے ایک باقاعدہ چینل کے تحت چلایا تھااور اس میں ان کے پاس جتنے بھی ثبوت تھے وہ سارے پیش کیے گئے مگر سپریم کورٹ کی فاضل عدالت نے جو فیصلہ دیا اس کی ہم عزت کرتے ہیں تاہم جسٹس فائز عیسیٰ سے متعلق ہمیں ذاتی طور پرکوئی بھی بغض یا عناد نہیں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں