جج آفتاب آفریدی کو قتل کرنے والے ملزمان کے انکشافات

جج آفتاب آفریدی کو قتل کرنے والے ملزمان کے انکشافات

منصوبہ بندی پشاور کے نجی ہوٹل میں کی گئی،منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جج کی گاڑی کا تعاقب کیا،آفتاب آفریدی کو قتل کا بدلہ لینے کے لیے قتل کیا

جج آفتاب آفریدی کو قتل کرنے والے ملزمان کے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج رانا آفتاب فریدی کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمان نے عدالت کا اعترافی بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی پشاور کے نجی ہوٹل میں کی گئی۔منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جج کی گاڑی کا تعاقب کیا اور موقع پاتے ہی صوابی انٹرچینج کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی ۔

ملزم بلال آفریدی کے مطابق ان کے چچا وزیر اکبر کو 2019 میں قتل کیا گیا جس میں جج آفتاب آفریدی ملوث تھے۔اس دوران جرگے بھی ہوئے لیکن ہمارے خاندان نے قتل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے جج آفتاب آفریدی قتل کیس میں گرفتار ملزمان نے عدالت میں اعتراف جرم کرلیا تھا گرفتار تین ملزمان شہزاد خان بلال آفریدی اور ذاکر شاہ کے بیانات کی کاپی موصول ہوگئی ملزمان کے مطابق گزشتہ ماہ 4 اپریل کو جج آفتاب آفریدی کے قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں کی گئی. ملزمان نے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جج آفتاب آفریدی کی گاڑی کا تعاقب کیا اور موقع پاتے ہی صوابی انٹرچینج کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے جج آفتاب آفریدی ، ان کی اہلیہ ، حاملہ بہو اور کم سن پوتا جاں بحق ہوگئے تھے. واقعے کی ایف آئی آر سپریم کورٹ بار کے صدر عبداللطیف آفریدی ، ان کے بیٹے دانش آفریدی سمیت 10 افراد کے خلاف درج کی گئی جس میں چار نا معلوم ملزم شامل ہیں پولیس نے پانچ ملزمان کو گرفتار کرلیا جب کہ عبداللطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے عبوری ضمانت کرا رکھی ہے اور ان کا بیٹا دانش آفریدی تا حال گرفتار نہیں ہوسکا

اپنا تبصرہ بھیجیں