79

جو لوگ مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث ہیں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو ربیع کی فصلوں کے لیے یوریا کی سپلائی چین کے موثر انتظام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو لوگ مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث ہیں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان ملک میں کھاد خصوصاً یوریا کی طلب اور رسد کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔

وزیر اعظم عمران خان نے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں روزانہ 25000 ٹن یوریا کی پیداوار ہوتی ہے جو ہماری ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے۔انہوںنے کہاکہ جو لوگ مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث ہیں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہاکہ گزشتہ سال ملک میں گندم، گنے، کپاس اور مکئی کی ریکارڈ بمپر فصلیں پیدا ہوئیں، اور حکومت کی زراعت دوست پالیسیوں کی وجہ سے مالی سال 2020-2021 میں کسانوں نے 822 ارب روپے اضافی آمدنی حاصل کی۔ اضافی آمدنی کے نتیجے میں کسانوں کی طرف سے یوریا کی زیادہ خریداری ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گندم کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے مناسب مقدار میں کھاد فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کاشتکاروں کو خاص طور پر اگلے تین ہفتوں میں کھاد کی دستیابی گندم کی بمپر فصل ماڈل کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ربیع کی فصلوں کے لیے یوریا کی سپلائی چین کے موثر انتظام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ عمران خان نے صوبائی چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ذریعے کھاد کی ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اورسپلائی چین سے باہر مڈل مین کے ذریعے خریداری کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کھاد کے پروڈیوسرز سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ اس سال گندم کی ریکارڈ پیداوار حاصل کرنے کے لیے کسانوں کو یوریا کی مناسب فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں