’’جہانگیر ترین کو کلین چٹ نہیں دی‘‘ راجہ ریاض کے دعوے کی تردید کر دی گئی

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر نے راجہ ریاض کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جہانگیر ترین سے متعلق کوئی بھی رپورٹ وزیراعظم کو جمع نہیں کروائی ہے۔ جہانگیر ترین کے حوالے سے بیرسٹر علی ظفر سے منسوب رپورٹ کے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،

جمع کرائی گئی سفارشات تحریک انصاف کو اندرونی طور پر جمع ہوں گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سینیٹر علی ظفر نے چینی اسکینڈل کے حوالے سے جہانگیر ترین سے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کی جانے والی تحقیقات کے حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ میری رپورٹ سے متعلق قیاس آرائیوں میں مصروف ہیں، واضح کر دوں کہ میری جانب سے کوئی رپورٹ وزیر اعظم کو جمع نہیں کرائی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میری رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، میری رپورٹ کا زیر التوا شوگر تحقیقات اور تفتیش سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے، مجھے صرف جہانگیر ترین کی شکایات اور تحفظات پر تحقیقات کا کہا گیا تھا، رپورٹ مکمل ہوتے ہی اپنی سفارشات وزیراعظم کو جمع کراؤں گا، تاہم وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے تحت بدعنوانوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف ترین گروپ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض نے دعوی کیا ہے کہ علی ظفر ایڈووکیٹ کی رپورٹ میں جہانگیر ترین کو کلین چٹ مل گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق تحریک انصاف ترین گروپ کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ نیوٹرل ایمپائر نے جہانگیر ترین کے حق میں فیصلہ دے دیا اورعلی ظفر ایڈووکیٹ کی رپورٹ میں جہانگیر ترین کو کلیئر قرار دیا گیا ہے، ہم نے شروع دن سے جو موقف اختیار کیا علی ظفر ایڈوکیٹ کی رپورٹ میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ علی ظفر ایڈووکیٹ کی رپورٹ جہانگیر ترین کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے منہ پر تمانچہ ہے، اب ایف آئی اے کے پاس مزید تحقیقات کا کوئی جواز نہیں ہے، رپورٹ حق میں آنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، جہانگیر ترین اور ہم سب سرخرو ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں