حج 2021ء پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین حج ہونے کا امکان

بہاولنگر (این این آئی) حج 2021ء کرونا ایس او پیز کی وجہ سے پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین حج ہونے کا امکان ہے سعودی عرب کی وجہ سے صرف مختصر دنوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ایک عام پاکستانی کیلئے حج کا خرچہ 25 ہزار ریال مقرر کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق صرف 18 سے 60 سال تک کی عمر کے

لوگوں کو حج کی اجازت ہوگی جس کیلئے حکومت سعودی عرب نے قواعد و ضوابط جاری کردیئے ہیں کرونا ویکسیئن کیساتھ ساتھ پیچیدہ سے امراض سے پاک معتبر لیبارٹری کا سرٹیفکیٹ بھی ساتھ لف کرنا لازم ہوگا اس سلسلہ میں اوپن بوفے سسٹم پر بھی پابندی ہوگی سعودی عرب میں ذرائع کا کہنا ہے کہ حج پر جانیوالے افراد کو 15 دن کیلئے قرنطینا میں جانا ہوگا جس کا خرچہ بھی مطلوبہ افراد کو ذاتی جیب سے برداشت کرنا ہوگا۔وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے بعد سعودی جیل میں قید پاکستانی کو رہا کردیا گیا، ولی محمداوراس کے خاندان نے رہائی پروزیراعظم عمران خان کاشکریہ ادا کیا۔تفصیلا ت کے مطابق سعودی عرب کی جیل سے دیر بالا کے رہائشی ولی محمد کو 15سال بعدرہا کردیا گیا، قیدی کی رہائی وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے بعدممکن ہوئی۔اس موقع پر ولی محمداوراس کے خاندان نے رہائی پروزیراعظم عمران خان کاشکریہ ادا کیا۔دوسری جانب سعودی عرب نے اسرائیل سے دبئی جانیوالی ایک پرواز کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے سے روک دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل ایئرلائن اور ٹورازم لیمیٹڈ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی فلائٹ661 نے مقامی وقت کے مطابق صبح6 بجے دبئی کیلئے روانہ ہونا تھا۔ایئرلائن کمپنی کی ترجمان خاتون نے

بتایا کہ سعودی عرب نے انہیں اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی اور اس کی وجہ بھی فی الحال معلوم نہیں ہو سکی۔حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دفتر خارجہ اس سلسلے میں تمام معاملات دیکھ رہا ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ سال اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ریاض نے سعودی فضائی حدود کے ذریعے متحدہ عرب امارات کے لیے تمام پروازوں (بشمول اسرائیل کی پروازوں)

کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا۔گزشتہ سال متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد اسرائیل اور مذکورہ عرب ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں شروع ہوئی تھیں۔ریاض نے ابھی تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے باضابطہ طور پر اتفاق نہیں کیا ہے لیکن اس نے متحدہ عرب امارات، سوڈان اور بحرین کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی مخالفت نہیں کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں