حضر ت علی ؓ کے اقوال

حضرت علی ؓ نے فر ما یا ہزار غلطیوں کے باوجود بھی آپ اپنے آپ سے پیار کر تے ہو۔ تو پھر کیوں کسی کی ایک غلطی پہ اس سے اتنی نفرت کر تے ہو۔ رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کر نے میں ہے بے عیب انسان تلاش کرو گے تو اکیلے رہ جا ؤ گے۔ زندگی کی اصل خوبصورتی یہ نہیں کہ تم کتنے خوش ہو بلکہ زندگی کی اصل خوبصورتی تو یہ ہے کہ دوسرے تم سے کتنا خوش ہیں۔ حضرت علی ؓ ۔ اگر تم اُس وقت مسکرا سکتے ہو جب تم پوری طرح ٹوٹ چکے ہو۔ تو یقین جا نو کہ دنیا میں تمہیں کبھی کوئی نہیں توڑ سکتا۔ ہمیشہ ایسے شخص کو چنا کرو جو آپ کو عزت دے کیونکہ عزت محبت سے کہیں زیادہ خاص ہو تی ہے۔ تمام تعریفیں اُس ذات کے لیے ہیں کہ وہ جسے توڑے اسے کوئی جوڑ نہیں سکتا اور جسے وہ جوڑے اسے سارے توڑنے والے مل کر توڑ نہیں سکتے۔

حضرت علی ؓ سے پو چھا گیا کہ انسان برا کب بنتا ہے؟ فر ما یا: جب وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اچھا سمجھنے لگے!!! حضرت علی ؓ نے فر ما یا: جس انسان کی جان نکل جا ئے تو وہ زندہ نہیں رہتا اور جس انسان سے احساس نکل جا ئے تو پھر وہ انسان ہی نہیں رہتا۔ آج کل کی مصروف زندگی میں ڈپریشن ایک عام مرض بن چکا ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 34 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے۔ دوسری جانب اس ڈپریشن کا علاج کرنے والے ماہرین نفسیات کی تعداد انتہائی کم ہے اور ہر بیس لاکھ کی آبادی کو صرف چار سو ماہرین میسر ہیں۔ ڈپریشن کی عمومی وجہ کام کی زیادتی اور زندگی سے بیزاری ہوتی ہےتاہم بعض اوقات اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی اور یہ کسی بھی عمر کے فرد کو، کبھی بھی ہوسکتا ہے۔

ڈپریشن کی تشخیص اگر ابتدائی مرحلے میں ہوجائے تو کچھ طریقے اپنا کر اس سے باآسانی چھٹکارہ پایا جاسکتا ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ زندگی کے ہر شعبہ اور ہر مسئلہ کی طرح اسلام ڈپریشن کا علاج بھی چودہ سو سال قبل بتا چکا ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں حضرت علیؓ کے ان اقوال سے ہوتا ہے جو ہمیں مختلف کتابوں میں ملتے ہیں۔ آئیے ان پر نظر ڈالتے ہیں۔سر پر ٹھنڈا پانی ڈالیں:غصہ، تناؤ اور پریشانی کے موقع پر سر پر ٹھنڈا پانی ڈالنا دماغ کو پرسکون کرتا ہے۔ اس بارے میں حضرت علیؓ نے فرمایاجب کبھی ایسا دکھ محسوس ہو جس کی وجہ معلوم نہ ہوسکے، تو اپنے سر پر پانی ڈالو۔خدا کو یاد کریں:دکھ اور تکلیف کے وقت میں خدا کو یاد کرنا اس بات پر یقین پختہ کرتا ہے

کہ یہ وقت جلد گزر جائے گا اور خدا اس وقت میں ہمارا ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔ ’جب دکھ بڑھ جائے تو کہو، اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں جو بچا سکے۔صفائی کا خیال رکھیں:ہم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ انفرادی صفائی سے لے کر اجتماعی طور پر گھروں، گلی، محلوں، شہروں اور ملکوں کی صفائی انسانی نفسیات پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صاف ستھرے کپڑے پہننا اور خوشبوئیں لگانا ہمارے دماغ کو ہلکا پھلکا کرتا ہے۔حضرت علیؓ کا قول ہے، صاف کپڑے پہننا دکھ اور غم کو دور کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں