حکومت کا ملک میں دو ہزار میگاواٹ بجلی کے شارٹ فال کا اعتراف

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں اراکین قومی اسمبلی نے کمیٹی ایجنڈے کا بائیکاٹ کر دیا جبکہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے حکومت پر شدید تنقید کی گئی وزارت توانائی کا لوڈ شیڈنگ کی وجہ حالیہ ٹرین حادثے اور ملک بھر کی تعلیمی ادارے کھلنا ایک سو چوبیس ارب کے بقایہ جات قرار دے دیا ہے، ایک

دن کے اندر واپڈا غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو شیڈول کر دے گی تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت ہوا، جلاس میں میں لوڈ شیڈنگ پر اراکین اسمبلی نے حکومتی ایجنڈے کا بائیکاٹ کر دیا اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے حکومت پر شدید تنقید کی گئی ، سیکرٹری توانائی کا ملک میں دو ہزار میگاواٹ بجلی کے شارٹ فال کا اعتراف کر لیاہے سیکرٹری وزارت توانائی علی رضا بھٹہ نے ممبران اسمبلی کے سوالات کے جواب میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تین دن سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی میں مشکلات ہیں جسکی وجہ وزارت توانائی کے اعلی حکام کی نالائقی ہے، سیکرٹری وزارت توانائی کے مطابق تربیلا ٹربائنن کی مرمت بھی تین ہزار کا شارٹ فال کی وجہ بنی ہے جبکہ ساہیوال پاور پلانٹ کو ٹرین حادثہ کی وجہ سے کوئلہ کی ترسیل نہ ہوسکی اور اور ایک سو چوبیس ارب کی ریکوری بقایہ ہے، ملک بھر کے سکولز کا کھلنا بھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ بن رہا جبکہ طلب میں اچانک اضافہ ہوا تکینکی مسائل بھی پیدا ہوئے 10 جون تک لوڈشیڈنگ کو شیڈول کر دیا جائے گا سیکرٹری وزارت توانائی کے مطابق بحلی کے بحران کے نمٹنے کیلئے کراچی کی بجلی کاٹی گئی اور شارٹ فال پورا کرنے کیلیے کے الیکٹرک سے بجلی لی گئی جولائی میں

دوبارہ بجلی بحران کا خدشہ ہے اس موقع پر ممبران اسمبلی کے سوالات کہ ملک میں بجلی کی پیداور کتنی ہے طلب کیا سیکرٹری جواب دینے سے گریزاں جبکہ ممبران کے بار بار استفسار پر سیکرٹری پاور نے بات ٹال دی ہیاس موقع پر اس موقع پر رکن قومی اسمبلی شازیہ مری لوڈشیڈنگ کے باعث پورا ملک پریشان ہے قائمہ کمیٹی کے اندر

متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا ایجنڈا عوام دشمن ہے پیسکو اور واپڈا کی سینکڑوں مثالیں ایسی ہیں جس سے ان اداروں کی نااہلی سامنے آ رہی ہے بیس سالہ سیاسی سفر میں کبھی سفارش نہیں کی البتہ بجلی کی لئے ہمیشہ زور دیا کہ عوام کو مشکلات سے نکالا جائے اس موقع پر سیکرٹری وزارت توانائی نے

کہا کہ ہماری حکمت عملی کے مطابق اس سال بہت پلانٹ لگ جائیں گے اگلے سال بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع ہوگی ایک لاکھ تیس ہزار ملازمین کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بلات کے بقایا جات بھی ملازمین کی کمی کی وجہ سے ہیں بنیادی بات یہ ہے کہ جب یہ بجلی دسمبر میں ہوتی ہے تو وہ ہمیں اتنی تکلیف

نہیں دیتی جو اس ماہ میں ہوتا ہے ل کے دن میں ہم نے تمام مشکلات حل ہو جائیں گی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کر دیا جائے گا ل کے دن میں ہم نے تمام مشکلات حل ہو جائیں گی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کر دیا جائے گا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں چئیرمین کمیٹی چوہدری سالک سمیت رکن

قومی اسمبلی شیر اکبر خان، زاہد اکرم درانی،لال چند، شبیر حسین قائم،، سائرہ بانو، غلام بی بی، ملک انور تاج، سیف الرحمان، عامر حسین، صابر حسین قائم خانی، اظہر قیوم نہرا، میاں ریاض حسین پیر زادہ، شازیہ مری، محمد افضل کھوکھر، سید غلام مصطفی شاہ کے علاوہ سیکرٹری پاور علی رضا بھٹہ جوائنٹ سیکرٹری پاور محفوظ بھٹی کہ، ایڈیشنل سیکر ٹری وسیم مختارنوید قیصر، عبدالرزاق جنرل مین نیّر پیپکو اور واپڈا کے دیگر اعلی حکام شریک ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں