دنیا کے دس مختلف ممالک کے ایسے کرنسی نوٹ جو کھربوں روپے کی مالیت رکھتے تھے، ایسے نوٹ جاری کرنے کی بنیادی وجہ کیا تھی؟

اسلام آباد(تحریر: شکیل احمد خان میو)آپ نے اپنی زندگی میں ابھی تک صرف ایسے کرنسی نوٹ ہی دیکھے ہوں گے جن پر زیادہ سے زیادہ زیرو یعنی صفر کی تعداد 2 یا 3 ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کے نوٹ پر زیرو کی تعداد کی زیادتی اس ملک کی اقتصادی زوال کی عکاس ہوتی ہےلیکن کیا آپ ایسے کرنسی نوٹوں کے متعلق جانتے ہیں۔۔ جن پر صفر کی تعداد 14 تک بھی ہوتی تھی یعنی کھربوں تک

۔یقینا آپ کا جواب نہیں میں ہوگاآج ہم آپ کو دس ایسے ممالک کی کرنسی کے متلعق بتائیں گے۔جن کی کرنسی کبھی کھربوں, اربوں, اور کروڑوں میں ہوتی تھی۔سب سے پہلےبات کرلیتے ہیں افریقہ کے ایک نہایت پسماندہ ملک زمبابوے کی۔۔ یہ بات آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دے گی کہ زمبابوے کو اپنی تاریخ میں 100 ٹریلین ڈالر کے کرنسی نوٹس بھی جاری کرنے پڑے تھے۔ یعنی ایک ہزار کھرب ڈالر۔۔۔جس کی بنیادی وجہ زمبابوے کی زبوں حالی اور افراط زر تھی۔ کیونکہ غریب اور پسماندہ ملک ہونے کے باعث زمبابوے ڈالر کی دوسرے ممالک کی کرنسی کے مقابلے میں کوئی ویلیو نہیں تھی۔۔اسی لیے ان کو اتنی مالیت کے کرنسی نوٹ جاری کرنا پڑے۔۔اس لسٹ میں دوسرے نمبر پر یورپ کا ایک ملک یوگو سلاویہ آتا ہے۔۔ نوے کی دہائی میں یوگوسلاویہ نے 500 ارب دینارا کے کرنسی نوٹ بھی جاری کیے۔۔ اسی طرح 500 ملین دینارا کے بھی بے شمار کرنسی نوٹس جاری کیے گئے۔۔اس لسٹ میں یورپ کے ملک کرشیا کا نمبر تیسرا ہے۔ جس نے روس سے نئی نئی آذادی حاصل کرنے کے بعد1993 میں اپنی افراط زر کے ہاتھوں مجبور ہوکر 50 ارب دینارا کا کرنسی نوٹ بھی جاری کیا۔۔افراط زر سے متاثر ہونے والا چوتھا ملک آج کا ترقی یافتہ ملک جرمنی تھا۔جسے جنگ عظیم اول کے بعد اپنی کرنسی کے زوال کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ اور جرمنی کو بھی افراط زر کے نشانے پر ہونے کے

باعث 100 بلین مارک کے کرنسی نوٹس جاری کرنے پڑے تھے۔دوسری جنگ عظیم سے متاثر ہونے والے یورپ کےملک ہنگری کی کرنسی بھی 50 کی دہائی میں زوال کا شکار ہوئی ۔اور کرنسی ڈی ویلیو ہونے کے باعث ہنگری کو بھی بڑے مالیت کے کرنسی نوٹس جاری کرنے پڑے تھے۔ ایک ایک نوٹ کی مالیت کئ کئی ارب پینگو (ہنگری کی کرنسی کا نام) تھی۔اس لسٹ میں چھٹا نام آج کے

ترقی یافتہ اسلامی ملک جمہوریہ ترکی کا ہے۔جس نے نوے کی دہائی میں دو کروڑ لیرا کا کرنسی نوٹ جاری کر کے اپنی افراط زر کی نشاہدہی کی تھی۔کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے ایک روپے کے بدلے میں سینکڑوں لیرا لے سکتے تھے۔لیکن اب صورتحال مختلف ہوچکی ہے۔۔ اب ترکی کے ایک لیرا کے بدلے میں کئی پاکستانی روپے آتے ہیں۔

وجہ صرف اقتصادی ترقی ہے۔اس لسٹ میں ساتواں نمبر براعظم ساؤتھ امریکہ کے ایک ملک بولیویا کا ہے۔ جسے 1986 میں افراط زر سے متاثر ہونے کے باعث ایک کروڑ پیسو کا کرنسی چھاپنا پڑا۔۔ آٹھویں نمبر پر آنے والا یورپین  ملک پولینڈ ہے۔۔ جسے 1989 میں 20 لاکھ زلوٹے(پولینڈ کی کرنسی کا نام ) جاری کرنا پڑا۔۔کیونکہ اس وقت پولینڈ اقتصادی طور پر زبوں حالی کا شکار تھا۔براعظم ساتھ

امریکا کا ملک پیرو اس لسٹ میں نویں نمبر پر ہے جس 1985 میں 50 لاکھ انٹی کا کرنسی نوٹ جاری کیا۔براعظم افریقہ کے ملک انگولا بھی 1995 میں افراط زر کا شکار ہوا۔۔ اور 5 لاکھ کوانزے مالیت کا کرنسی نوٹ جاری کیا۔۔ واضح رہے کہ اب ان میں سے زیادہ تر ملک اقتصادی طور پر مضبوط ہوچکے ہیں۔ اور ان کے کرنسی نوٹوں پر آپ کو دو یا تین سے زیادہ زیرو نظر نہیں آتے۔۔ تاہم زمبابوے نے اپنے نوٹوں سے زیرو تو کافی حد تک کم کر دیے۔۔لیکن تاحال اقتصادی بحران کا شکار ہے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں