ساہیوال ، سگی بیٹی سے جنسی زیادتی کے الزام میں باپ کو گرفتار کرلیا گیا

لڑکی کے رشتے کے معاملے پر باپ اور بیٹوں کے درمیان تنازع تھا ، ملزم نے اپنی سگی بیٹی کو ایک کمرے میں اکیلی دیکھ کر اسے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا ، جب کہ گھر کے دیگر افراد برآمدے میں سورہے تھے ، پولیس

ساہیوال ، سگی بیٹی سے جنسی زیادتی کے الزام میں باپ کو گرفتار کرلیا گیا
پولیس کے مطابق ابتدائی طبی رپورٹ میں لڑکی کا ریپ ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے ، تاہم پولیس ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کررہی ہے۔

صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں سگی بیٹی سے جنسی زیادتی کے الزام میں باپ کو گرفتار کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ گاؤں 155/9 میں پیش آیا ، جہاں پولیس نے ایک شخص کو مبینہ طور پر اپنی بیٹی کا ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ، مشتبہ ملزم ایک دہاڑی دار مزدور ہے جس کے 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں ، جس نے متاثرہ اپنی سگی بیٹی کو ایک کمرے میں اکیلی دیکھ کر اسے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا ، جب کہ گھر کے دیگر افراد برآمدے میں سورہے تھے ، پولیس نے متاثرہ لڑکی کے بھائی کی شکایت پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

بتایا گیا ہے کہ پولیس کو 15 پر شکایت گزار کی جانب سے کال موصول ہوئی کہ اس کا والد اس کی 15 سالہ بہن کا ریپ کر کے فرار ہوگیا ، لڑکی کے رشتے کے معاملے پر باپ اور بیٹوں کے درمیان تنازع تھا ، لڑکی کا والد اپنی ایک بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کرنا چاہتا تھا جب کہ بیٹے کہیں اور رشتے کے لیے اصرار کررہے تھے۔

دوسری طرف ملک میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے اینٹی ریپ قوانین کے نفاذ کیلئے صوبوں کو ہدایت جاری کردیں ، اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی زیرصدارت اجلاس ہوا ، جس میں اینٹی ریپ قوانین کے نفاذ کے لیےصوبوں کو ہدایات جاری کی گئیں ، اس موقع پر وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ملک میں اینٹی ریپ کرائسز سیلز کے لیے اسپتالوں کی نشاندہی کی جائے، اینٹی ریپ کرائسز سیل کی سربراہی کے لیے کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کو نامزد کیا جائے، تمام صوبے ایک فوکل پرسن بھی نامزد کریں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اینٹی ریپ کرائسز سیلز اورجے آئی ٹی کی مدد سے جنسی جرائم پرقابو پایا جا سکے گا ، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی کی سر براہی ڈی پی او کرے گا ، صوبے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں بنانے پر بھی کام شروع کر دیں ، جے آئی ٹی میں خاتون پولیس افسر بھی شامل ہوں گی ، معاملے پر کسی بھی صوبے کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں