سعودی شہری نے سینکڑوں سال پرانے نوادرات سے گھر میں میوزم بنا لیا

سعودی عرب کے ایک مقامی شہری نے جنوب مغربی شہر المندق میں تاریخی نوادرات کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کرکے اپنے گھر میں میوزیم بنا لیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس کی جمع کی گئی نوادرات میں تین سو سال پرانی لکڑی کی ایک تھالی بھی ہے۔ انتیس سال سے نوادرات جمع کرنے میں مصروف سالم الزھرانی نے اب تک ایک ہزار سے زاید نوادرات اکھٹی کی ہیں

۔سالم الزھرانی نے بتایا کہ میں نے 29 برسوں سے نوادرات جمع کرنے کا مشغلہ اپنا رکھا۔ نوادرات کی تلاش میں میں کشاں کشاں پھرتا رہا ہوں۔جنوب مغربی سعودی عرب کے علاقے میری نوادرات کی تلاش کا خاص مرکز ہیں۔ سیکڑوں نوادرات جمع کرنے کے بعد سنہ 1426ھ کو میں نے اپناایک میوزیم قائم کیا۔ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میرا مقصد گذری نسلوں کے طرز زندگی کو محفوظ بنانے کے اقدامات کرنا اور بتانا ہے کہ ہمارے آبا اجداد کس طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ میوزیم سے پرانے تہذیبوں، ثقافت اور علوم و فنون کو بھی جاننے میں مدد ملتی ہے۔ میوزیم گذری تاریخوں کا آئینہ ہوتے ہیں جن میں جھانک کر ہم ماضی کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ نیز عجائب گھر محققین کے لیے تاریخ، روایات، اقوام کے طرز زندگی اور ماضی اور حال کو باہم مربوط کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔الزھرانی نے کہا کہ میرے نجی میوزیم میں مہمان نوازی کے اوزار ، پانی دینے کے آلے ، زرعی اوزار ، بیج ، اناج ، سیرامکس ، چاندی ، سجاوٹ اور ہر طرح کے پرانے ہتھیاروں شامل ہیں۔الزھرانی نے بتایا کہ اس کے پاس موجود پرانی اشیا میں ایک لکڑی کا تھال ہے جو تین سو سال پرانا ہے۔ لکڑی کے پرنالے، پھل دار درختوں کے فارم ہیں اور وہ اپنی جمع کردہ نوادارات کو 17 نمائشوں میں پیش کرچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں