سعودی عرب میں ٹرمپ دور والے حالات نہیں،سعودی عرب کو سمجھ آگئی ہے کہ پرانے دوستوں کے بغیر نہیں چلا جا سکتا،وزیراعظم کو دورے میں ڈالر کی خوشبو بھی سنگھائی جائے گی۔ سینیر تجزیہ کاروں کا تبصرہ

محمد بن سلمان کی پوزیشن پہلے والی نہیں

سینیئر تجزیہ کار ارشاد عارف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ٹرمپ دور والے حالات نہیں۔اس وقت سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جارحانہ حکمت عملی تیار کر لی تھی اب ان کی پوزیشن پہلے والے نہیں ہے کیونکہ امریکی صدر نے مقتول سعودی صحافی جمال خشوگی کا معاملہ اٹھایا۔دوسرا سعودی خاندان کے اندر رنجش بڑھ چکی ہے جبکہ تیسرا مسئلہ اسرائیل کا ہے۔

سعودی خاندان میں اسرائیل کے معاملے میں خاصا اختلاف ہے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پر اسرائیل کے معاملے میں سعودی عرب کی طرف سے کوئی پریشر نہیں ہے۔ سعودی عرب کو سمجھ آگئی ہے کہ پرانے دوستوں کے بغیر نہیں چلا جا سکتا۔تجزیہ کار اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہخطے کے اندر بڑی تیزی سے صف بندی ہو رہی ہے، وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب پرو چائنہ موو ہے۔

سارے ملک اپنے مفادات کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں، ہم بھی سعودی عرب اپنے مفاد کے لیے گئے۔دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کا کہنا ہے کہ ہمارے تعلقات بہتر ہونے کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب امریکہ کی وجہ سے ہے، جس میں پاکستان سے مطالبات کیے جائیں گے اور انہیں ڈالر کی خوشبو بھی سنگھائی جائے گی۔جو سعودی عرب چاہتا تھا وہ آرمی چیف نے کہہ دیا ہے کہ ہم سعودی عرب کی حفاظت کریں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد کی ون آن ون اور وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ، پاک سعودی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور متعدد باہمی معاہدوں سمیت مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی ہوگئے ، دونوں رہنماؤں نےخطے کی ترقی کیلئےسی پیک پربھی بات چیت کی، وزیراعظم نے کہا سی پیک دوطرفہ تعاون کوبڑھانے میں اہم کرداراداکرے گا ، عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کودورہ پاکستان کی دعوت دے دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں