”سعودی عرب کا دستور قرآن کریم پراُستوار ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا“

سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ دینی فتاویٰ زمانہ و مقام کے حساب سے بدل جاتے ہیں، قرآن کی کسی واضح نص کے مطابق ہی سزادی جائے گی

”سعودی عرب کا دستور قرآن کریم پراُستوار ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا“

سعودی عرب مسلمانوں کے لیے ایک قابل احترام مملکت کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں پر اہل اسلام کے مقدس ترین مقامات ہیں جن کی حُرمت اور آبرو کو وہ سب سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کے لیے کچھ اصلاحات کی ہیں جن سے ملک کا قدامت پرست طبقہ کچھ ناراض دکھائی دیتا ہے۔

تاہم محمد بن سلمان نے اپنے ایک تازہ ترین ٹی وی انٹرویو میں واضح کر دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی نظریاتی اسلامی حیثیت کو بالکل تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔العربیہ نیوز کے مطابق انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ مملکت کا آئین ہمیشہ کے لیے قرآن ہے۔ قرآن کریم سے اجتہاد اور فکری رہ نمائی کا حصول جاری رکھیں گے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح سعودی عرب بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا نشانہ رہا ہے۔ اس فکری انتہا پسندی کے نتیجے میں مملکت کی ترقی کا سفرمتاثر ہوا۔ جو شخص بھی دہشت گردانہ نظریات پرچلے گا وہ مجرم ہوگا اور اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ دینی فتاویٰ زمان ومکان کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں۔ کسی شخص کو سزا صرف قرآن کی کسی واضح نص کیمطابق ہی دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں