سقوط غرناطہ کی تاریخ، جب سپین میں مسلمانوں کا 800 سالہ دور ختم ہوا

مسلمانوں نے آج کے سپین پر 800 سال سے زائد عرصے تک انتہائی شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی ، اس سلطنت کی بنیاد طارق بن زیاد نے رکھی اور اس کا خاتمہ سلطان ابو عبداللہ کے وقت ہوا، عیسائیوں نے نہ صرف یہاں سے مسلمانوں کی حکومت ہمیشہ کیلئے ختم کردی بلکہ مسلمانوں کا بھی صفایا کردیا، آج کی اس ویڈیو میں ہم اس آخری معرکے یعنی سقوطِ غرناطہ پر بات کریں گے جو اندلس میں مسلمانوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔۔۔

12 جمادی الثانی سنہ 896 ہجری کو قسطلہ کا بادشاہ فرڈی نند ملکہ ازابیلا کے ساتھ عظیم الشان قلعہ شکن توپ خانے اور لشکر جرار لے کر غرناطہ پہنچا، یہاں پہنچتے ہی اس نے سر سبز و شاداب باغوں‘ کھیتوں اور آباد بستیوں کو تاراج و خاک سیاہ بنانا اور مسلمان باشندوں کے خون کی ندیاں بہانا شروع کر دیں۔ غرناطہ کے سامنے پہنچ کر اس نے پڑاؤ ڈال لیا اور شہر کا محاصرہ کرلیا۔

 شہر کا ایک حصہ چونکہ کوہ شلیر سے وابستہ تھا۔ لہٰذا عیسائی فوجیں شہر کا مکمل محاصرہ نہیں کر سکتی تھیں یہ محاصرہ قریباً آٹھ مہینے جاری رہا۔ جزیرہ نمائے اندلس میں اب سوائے اس محصور شہر کے اور کوئی جگہ ایسی باقی نہیں بچی تھی جہاں اسلامی حکومت قائم ہوتی، 8 ماہ تک جاری رہنے والے محاصرے کے بعد موسم سرما شروع ہوگیا اور پہاڑ پر برف کی وجہ سے راستے بند ہو گئے جس کی وجہ سے اہلِ شہر کو جو رسد کوہ شلیر کی طرف سے پہنچتی تھی وہ رک گئی۔

897 ہجری صفر کے مہینے میں اہل شہر نے سلطان ابوعبداللہ سے درخواست کی کہ جب تک ہمارے جسم میں جان باقی ہے دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ بھوکے مرنے سے بہتر ہے کہ ہم میدان جنگ میں تیر و تفنگ کھا کر جان دے دیں ، ہمیں طارق بن زیاد کا معرکہ یاد ہے کہ اس فاتح اول نے اپنی مٹھی بھر جمعیت سے ایک لاکھ عیسائی فوج کو شکست فاش دی تھی ہماری تعداد جو اس وقت محصور ہے بیس ہزار سے کچھ کم ہے لیکن ہم مسلمان ہیں اس لیے ہمیں عیسائیوں کی ایک لاکھ کی فوج سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

 سلطان ابو عبداللہ نے دیکھا کہ اہل شہر کا اضطراب دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر فوراً جنگ یا صلح کا فیصلہ نہ ہوا تو لوگ باغی ہو کر کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھیں جس سے نقصان عظیم پہنچے۔ اس نے وزرا و امرا کو قصر حمرا میں طلب کرلیا، اس مشاورت میں شہر کے علماء و مشائخ کو بھی شریک کیا گیا۔

سلطان ابو عبداللہ نے کہا کہ اب عیسائی لوگ جب تک شہر پر قبضہ نہ کرلیں گے محاصرے سے باز نہ آئیں گے۔ ایسے نازک وقت میں کیا تدبیر کی جائے۔  مورخین کے مطابق ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں