سکولوں میں ہفتے میں 4 دن کلاسز کا فیصلہ

محکمہ سکول ایجوکیشن نے 7 جون سے صوبے بھر کے اضلاع میں نجی اور سرکاری سکولز کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ بچوں کو پچاس فیصد حاضری کے تحت بلانے کی پابندی برقرار رہے گی۔محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سکولوں میں طلبہ کو 50 فیصد حاضری کے تحت بلایا جائے گا۔

کوئی بچہ لگاتار دو دن سکول نہیں آئے گا۔ تمام متعلقہ اتھارٹیز کورونا ایس اوپیز پر عملدراآمد کروائیں گی۔اس حوالے سے معروف صحافی ثنا ء اللہ نگرا نے ٹوٹیفکیشن کی کاپی شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’محکمہ تعلیم پنجاب کا 7 جون سے تمام نجی وسرکاری سکول کھولنے کا اعلان کیا ہے ، سکولوں میں ہفتے میں چار دن کلاسز ہوں گی، پچاس پچاس فیصد طلباء 2 روز کے حساب سےکلاسز میں آئیں گے۔ ‘‘دوسری جانب سندھ کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ میں بھی فزیکل کلاسز شروع کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔چیئرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن حیدرعلی نے جاری بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی ادارے تمام کلاسز کے لیے ایس و پیز کے ساتھ فوری طور پر کھولنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے لئے اساتذہ کو ترجیح دینے پر این سی او سی کے شکر گزار ہیں۔ دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی فزیکل کلاسز شروع کرنے کا نوٹیفکیشن اور سندھ میں تعلیمی معاملات کے شیڈول کے لئے اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس فوری طور پر بلایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلی تا آٹھویں جماعت کے امتحانات لازمی طور پر ہونے چاہییں۔ تعلیمی عمل جائزے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا لہذا تمام کلاسز کا امتحان لیا جائے۔ مختصر نصاب سے کم دورانیے کا امتحان ہونا ہے لہذا اختیاری و لازمی مکمل مضامین کا امتحان بھی لیا جائے۔ایسوسی ایشن چیئرمین نے کہا کہ پانچ سے سات مضامین کے امتحان کو بہت مشکل بنایا جارہا ہے۔ جامعات کے کھولے جانے اور میٹرک و انٹر کے طلبہ کو مڑید وقت دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے لئے بار بار فیصلوں کے بجائے واضح اور دوٹوک پالیسی اختیارکی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں