شاہ محمود قریشی کا اسرائیل کے بارے تبصرہ ، سی این این کی اینکر برا منا گئی،بڑا الزام لگا دیا‎‎

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے غزہ پر حملے کے باوجود اسرائیل میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے جس کی وجہ سے عوام رائے کا دبائو شدت اختیار کر گیا ہے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دیا گیا انٹرو یوسی این این اینکر کو ناگوار گزرا ،بڑا الزام عائد کر دیا ۔ سی این این خاتون اینکر نے سوال پوچھ لیا، اسرائیل کا میڈیا کیساتھ کس قسم کے کنکشن ہیں یہ؟

جس کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے دوٹوک جواب دیا ، ’’ ڈیپ پاکٹس‘‘۔ خاتون اینکر ہڑبڑا گئی اور پوچھا کہ کیا مطلب ہے ؟ جس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بڑے بااثر لوگ میڈیا کو ہینڈل کر رہے ہیں ۔اس پر سی این این خاتون اینکر نے شاہ محمود قریشی پر اسرائیل کیخلاف متعصبانہ ریمارکس کا الزام عائد کر دیا ۔ جبکہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی ایسا نہیں کہا لیکن خاتون اینکر نے پروگرام ہی ختم کر دیا جبکہ اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر ٹوئٹر اکاؤنٹ پر وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی پر دوبارہ یہ الزام لگادیا۔قبل ازیں فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج اور اسلامی تحریک مزحمت ‘حماس کے درمیان جاری لڑائی کے گیارہ روز بعد دونوں فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔گذشتہ شب اسرائیلی کابینہ نے جنگ بندی کی تجویز پر رائے شماری کی۔ رائے شماری کے دوران کثرت رائے سے جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کا فیصلہ امریکہ کے شدید دباؤ کے بعد کیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کی منظوری ایک عہدیدار کے مطابق ’’خاموشی کے بدلے خاموشی‘‘ کی بنیاد پر دی گئی ہے۔کابینہ اجلاس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کے وزیراعظم سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے کشیدگی کم کرنے کے لیے کہا تھا۔اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہیکہ جنگ بندی کی تجویز مصر

اور بعض دوسرے ممالک کی طرف سے دی گئی ہے۔ یہ جنگ بندی غیر مشروط ہوگی۔ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق رات دوبجے نافذہو گئی۔ادھر فلسطینی گروپوں نے بھی غزہ کے علاقے میں جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب دو بجے سے جنگ بندی پرعمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت تک جنگ بندی پرعمل درآمد کریں گے جب قابض اسرائیل کرے گا۔ اگر اسرائیل نے جنگ بندی معاہدہ توڑا تو ہم بھی اس پر قائم نہیں رہیں گے۔

جنگ بندی پرعمل درآمد کے بعد رات گئے غزہ میںلوگ خوشی سے سڑکوں پر نکل آئے اور جنگ بندی کی خوشی کا جشن منایا۔ فلسطینی مزاحمت کاروں نے گذشتہ 11 روز میں اسرائیل پر 4300 راکٹ داغے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث شہری گھروں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے تھے اور عیدالفطر کے موقعے پروہ عیدکی تقریبات بھی نہیں منا سکے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر 10 مئی سے جاری خون خرابے کو روکنے کے دباؤ کے بعد اس جنگ بندی کے لیے مصر نے مذاکرات کیے تھے

جس میں غزہ کا دوسرا طاقتور عسکری گروہ اسلامی جہاد بھی شامل تھا۔حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیا نے خوشی منانے کے لیے سڑکوں پر جمع ہزاروں فلسطینیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتح کی خوشی ہے۔ اسرائیلی ریڈیو اسٹیشنز جو مسلسل خبریں اور تبصرے نشر کررہے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں