قرض کی واپسی کی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر میں بڑی گراوٹ، مجموعی ذخائر 23ارب ڈالرز کی سطح سے گر کر22ارب ڈالرز جبکہ سرکاری ذخائر16ارب ڈالرز کی سطح سے گھٹ کر15ارب 50 کروڑ ڈالرز کی سطح پر آگئے

پاکستان نے 1 ارب ڈالرز کا بڑا کمرشل قرضہ واپس کر دیا

پاکستان نے 1 ارب ڈالرز کا بڑا کمرشل قرضہ واپس کر دیا، قرض کی واپسی کی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر میں بڑی گراوٹ، مجموعی ذخائر 23ارب ڈالرز کی سطح سے گر کر22ارب ڈالرز جبکہ سرکاری ذخائر16ارب ڈالرز کی سطح سے گھٹ کر15ارب 50 کروڑ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے گزشتہ ہفتہ کمرشل لون کی مد میں ایک ارب ڈالر کی بھاری ادائیگی کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 23ارب ڈالرز کی سطح سے گر کر22ارب ڈالرز جبکہ سرکاری ذخائر16ارب ڈالرز کی سطح سے گھٹ کر15ارب ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

اسٹیٹ بینک سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق 30اپریل کو ختم ہونے والے ہفتہ پر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 77کروڑ76لاکھ ڈالرز کمی سے 22ارب74کروڑ26لاکھ ڈالرز کی سطح پر آگئے،اس دوران مرکزی بینک کے ذخائر 82کروڑ99لاکھ ڈالرز کمی سے 15ارب59کروڑ79لاکھ ڈالرز جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر5کروڑ23لاکھ ڈالرز اضافہ سے 7ارب14کروڑ47لاکھ ڈالرز ریکارڈ کئے گئے۔

گزشتہ ہفتہ مرکزی بینک نے کمرشل لون کی مد میں ایک ارب ڈالرز کی بھاری ادائیگی کی جس کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ دیکھا گیا ۔ ذخائر میں 5 فیصد کی کمی ہوئی ہے، جبکہ ملک کے کل غیر ملکی قرضوں کا حجم 110 ارب ڈالرز ہو گیا ہے۔ دوسری جانب مقامی کرنسی مارکیٹوں میں امریکی ڈالر مزید50پیسے سستا ہوگیاجس کے نتیجے میں انٹر بینک میں ڈالر 153روپے کی سطح سے بھی نیچے آگیا ۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روزانٹر بینک میں ڈالر کی قیمت خرید50پیسے کی کمی سے 153روپے سے گھٹ کر152.50روپے اور قیمت فروخت153.10روپے سے گھٹ کر152.60روپے ہوگئی جب کہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید50پیسے کی کمی سی153.20روپے سے گھٹ کر152.70روپے اور قیمت فروخت153.50روپے سے گھٹ کر153روپے ہو گئی۔دیگر کرنسیوں میںیورو کی قیمت خرید 182روپے سے بڑھ کر182.50روپے اور قیمت فروخت183.80روپے سے بڑھ کر184روپے ہوگئی جب کہ برطانوی پاؤنڈکی قیمت خرید211روپے اور قیمت فروخت213روپے پر مستحکم رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں