لندن کے ٹاور برج پر افطار کے وقت اذان مغرب کی گونج

برطانیہ کے شہر لندن کا ٹاور برج اس وقت اذان کی آواز سے گونج اٹھا جب رمضان کے آخری جمعے کا سورج غروب ہونے پر ایک برطانوی مسلمان نے اذان دے  دی۔ عرب نیوز کے مطابق 35 سالہ قاضی شفیق الرحمان نے بین المذاہب ورچوئل افطار کے موقع پر اذان مسجد الحرام کے موذن شیخ علی احمد ملا کے انداز میں سفید توب اور سعودی لباس پہنے ہوئے دی۔ یہ انداز انہوں نے بچپن سے ہی سیکھ رکھا تھا۔
احمد ملا 1975 سے مسجد الحرام میں اذان دے رہے ہیں اور ان کی آواز تمام مسلمان ممالک کے لیے جانی پہچانی ہے چاہے وہ مکہ گئے ہوں یا نہ گئے ہوں۔ ٹاور برج پر ہونے والی اس اذان نے ٹاور ہیملٹس ہومز، مشرقی لندن، مسلم سنٹر اور ہیملٹس کے انٹرفیتھ فورم کے یراہتمام ہونے والے افطار کے موقع پر روزہ کھلنے کا اعلان کیا۔ شفیق االرحمان کا کہنا ہے کہ انہیں اذان دینے پر اطمینان کا احساس ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ایک عام سا آدمی ہوں اور یہ موقع میرے عزت افزائی کا باعث ہے۔‘
اگرچہ وہ مساجد میں 20 سال سے اذان دے رہے ہیں تاہم یہ دوسرا موقع ہے کہ انہوں نے لندن کے ایک اہم مقام پر اذان دی۔ گذشتہ برس انہوں نے لندن کے کاروباری ضلع کناری وارف میں اذان دی تھی اور اس کی ویڈیو لاکھوں مرتبہ دیکھی گئی۔ شفیق االرحمان  نے امید ظاہر کی انہیں دنیا کے دیگر اہم مقامات پر بھی اذان دینے کا موقع ملے گا تاہم انہوں نے خاص طور پر ابوظبی کی زاید گرینڈ مسجد کا ذکر کیا۔
قاضی شفیق الرحمان نے روایتی عرب لباس میں مسجد الحرام کے موذن شیخ علی احمد ملا کے انداز میں اذان دی (فوٹو: عرب نیوز)
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پچھلے برس کناری وارف میں اذان دینے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ نماز کے لیے بلائے جانے کا یہ پیغام بہت مضبوط ہے اور میں سوشل میڈیا کے ذریعے اس کو دنیا بھر میں بھیجتا ہوں۔ شفیق االرحمان کے مطابق ’میری لنکڈ ان پر بھی دور تک رسائی ہے اور کئی غیر مسلم بھی بتاتے ہیں کہ اذان کس طرح ان کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے اور وہ پوچھتے ہیں کہ یہ اصل میں ہے کیا۔‘
شفیق االرحمان  کا کہنا تھا کہ ’پچھلے برس اذان کی ویڈیو کو جو توجہ ملی وہ میرے لیے حیران کن تھا۔ انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ پچھلے سال کی اذان کا اثر ناقابل یقین تھا، ویڈیو لاکھوں دیکھنے والوں تک پہنچی۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے انہیں اچھی آواز دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں