ماں بڑی مشکلوں سے بیٹی کا جہیز سسرال لے جارہی کہیں اسے بعد میں طعنے نہ سننے پڑے ۔۔ لیکن شادی ہوئی تو اس لڑکی کے ساتھ کیا ہوا؟ اس کی کہانی سننے کے بعد آپ بھی رو جائیں گے

والدین اپنے بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی، لیکن بیٹی کی محبت اس لئے بھی زیادہ کی جاتی ہے چونکہ بیٹیوں کو پرائی امانت سمجھا جاتا ہے، انہیں شادی کرکے سسرال جا کر اپنا گر سنبھالنا ہوتا ہے۔ اور ان کی شادی کے لئے لاکھوں روپے والدین جمع کرتے ہیں تاکہ معاشرے کی ناسور رسم جسے عام زبان میں جہیز کہا جاتا ہے وہ دیا جائے۔

ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں اس تصویر کی کہانی جس میں بیٹی کی ماں خود گاڑی میں پیچھے بیٹھ کر اپنی بیٹی کا جہیز دینے جا رہی ہے، مگر پھر بھی سسرال والے بہوؤں کو جہیز کے طعنے دینا نہیں چھوڑتے۔

اس ماں نے پیٹی کے نیچے فوم رکھوایا ہے اور خُود اس کے برابر میں کس مشکل سے بیٹھی ہے، صرف اِس لئے کہ میری بیٹی کو اپنے سُسرال میں جہیز کے نام پر کسی قسم کی تنقید نہ سہنی پڑے۔ لوگ تنقید کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ ماں باپ کس تکلیف سے گزرتے ہیں جب اُن کی وہ بیٹی جسے وہ بڑے ناز اور نخروں کے ساتھ پال کے کسی دوسرے کو ساری زندگی کے لئے سونپ دیتے ہیں یہ سوچ کر بچی اپنا گھر بسائے گی، نئے گھر میں نئی خوشیاں اس کا مقدر بنیں گی، لیکن ہر بچی کے نصیب یکساں نہیں ہوتے، اور والدین اپنی بچی کا گھر بسانے کی خاطر ہر کڑوا گھونٹ پی لیتے ہیں۔

ان کی ایک ہی بیٹی تھی، اس کی شادی کردی، ہر قسم کا جہیز دیا، جو چیزیں خود زندگی بھر گھر میں نہ رکھی وہ بھی اپنی بیٹی کو جہیز میں دیں، لاکھوں روپے کا فرنیچر، 100 جوڑے ، 20 جوتے، 25 جیولری ہار، 2 سونے کے سیٹ، 4 قیمتی سونے کے کڑے، 2 بہترین دبئی سے منگوائے ہوئے جھمکے، بیٹی سمیت داماد کے لئے قیمتی اور مہنگے کپڑے، سسرال میں ہر ایک کا جوڑا یہاں تک کہ نندوں کے بچوں کے کپڑے تک بیٹی کے جہیز کے ساتھ تحفے کے طور پر بھجوائے، مگر سسرال والوں نے ہر حد پار کردی، ان کی بچی کا سارا جہیز خود استعمال کیا اور پھر بھی اس کو یہ طعنے سننے کو ملتے ہیں کہ معیاری سامان نہیں دیا۔

ان کی کہانی جان کر یقیناً دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جہاں والدین بیٹیوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے، وہیں سسرالی ان کو اس قدر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ خود کو بوجھ سمجھنے لگتی ہیں۔

جبکہ یہ کم ظرف سسرالی یہ نہیں سوچتے کہ ہماری بھی بیٹیاں ہیں، اگر ہم کسی کی بچی کے ساتھ ظلم کریں گے تو ہماری بچیوں کا گھر بھی نہیں بس سکتا۔ بالکل ایسا ہی مظلوم والدین کی بیٹی کی بڑی نند کے ساتھ ہوا، جس کی 2 شادیاں ہوئیں اور دونوں ناکام رہیں، دوسرے شوہر نے بیٹی سے تینوں لے کر اس کو چھوڑ دیا، مارا پیٹا، اور ان کی لڑائی صرف اس بات پر ہوئی کہ شوہر چاہتا تھا بیوی میرے آنے سے قبل تیار ہو کر رہے، دیکھا جائے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے، جس پر کم ظرف ماں باپ کی بد بخت بیٹی نے شوہر سے لڑ کر گھر چھوڑ دیا اور اب اپنے بھائی کی زندگی تباہ کر رہی ہے۔

اس کہانی کو بتانے کا مقصد ہمارا صرف یہی ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں، مل بانٹ کر خوشی سے رہیں، جہیز کا سامان زندگی میں دنیا میں پڑا رہ جانا ہے مگر کسی کی بیٹی کی عزت اس کا احترام آپ کو مرتے وقت گناہ میں داخل کروانے کا سبب بالکل نہیں بنے گا۔ جہیز کی لعنت کو ٹھکرائیں اور محبت سے گھروں کو چلائیں، اس سے آپ کا گھر بھی پھلے پھولے گا اور معاشرے میں جرائم کی کمی بھی ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں