462

مجھ سے 70 ہزار مانگے، بحث کرکے 40 ہزار کرائے، ہمیں کہا گیا کہ لینا ہے تو لو نہیں تو جاؤ اپنا کام کرو، 9 پراٹھوں کا بل 1900 روپے بنا دیا، مری سے آنے والے سیاحوں نے ہوٹل مالکان کی بے حسی اور بلیک میلنگ کا پول کھول دیا

مجھ سے 70 ہزار مانگے، بحث کرکے 40 ہزار کرائے، ہمیں کہا گیا کہ لینا ہے تو لو نہیں تو جاؤ اپنا کام کرو، 9 پراٹھوں کا بل 1900 روپے بنا دیا، مری سے آنے والے سیاحوں نے ہوٹل مالکان کی بے حسی اور بلیک میلنگ کا پول کھول دیا

مری سے واپس آنے والے سیاحوں نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹل مالکان کی بلیک میلنگ کی وجہ سے گاڑیوں میں سونے پر مجبور ہوئے، ایک سیاح نے کہا کہ یہ میرے پاس کارڈ ہے ایک کمرے کا ستر ہزار روپیہ مانگ رہے تھے، بڑی بحث کرکے چالیس ہزار روپے میں ایک کمرہ لیا کہ میرے ساتھ فیملی ہے،
وہ پچاس سے کم کر ہی نہیں رہے تھے کہتے تھے کہ لینا ہے تو لو ورنہ ہمارا ٹائم نہ ضائع کرو، ایک اور سیاح نے کہا کہ یہ جو اموات ہوئی

ہیں وہ ہوٹلوں کی وجہ سے ہوئی ہیں کیونکہ یہ لوگ ستر ستر ہزار کرایہ مانگ رہے تھے جس کی وجہ سے لوگ گاڑیوں میں سونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ سیاح کا کہنا تھا کہ نو پراٹھے اور ایک چائے کا بل 19 سو روپے بنا دیا، ایک اور سیاح نے بتایا کہ یہاں پر چیزیں بہت مہنگی ہیں یہاں لوگ کھانا کھائیں یا کمروں کے اتنے بھاری بل دیں۔ اس طرح سیاحوں نے مری کے ہوٹل مالکان کی بے حسی اور بلیک میلنگ کا پول کھول دیا، دوسری جانب ملکہ کوہسار مری میں موسم سرما کی طوفانی برفباری کے دوران برف کے طوفان میں دب کر جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور اہلیان راولپنڈی نے سانحہ مری کی غیر جانبدارانہ جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے

کہ اس سانحہ کی تمام تر ذمہ دار پنجاب حکومت،مری کے اراکین اسمبلی،راولپنڈی و مری کی انتظامیہ اور مری کا ہوٹل مافیا ہے شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ برفباری کے دوران دب کر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ظاہر کی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے نااہل انتظامیہ اور مافیا کی مبینہ ملی بھگت سے تول پلازہ پر وصولیوں سے لے کر ہوٹلوں اور بیت الخلاؤں کے کرایوں اور کھانے پینے کی اشیا کی1ہزار گنا زائد وصولی اور لالچ میں کئی گھروں کے چراغ گل کر دیئے گئے
اگر فوج برقوت مداخلت نہ کرتی تو تو یہ سانحہ مزید سنگین صورتحال اختیار کر سکتا تھا دوسری جانب سانحہ مری کے بعد مکمل ویرانی اور سناٹا چھا جانے سے ملکہ کوہسار مری کی رونقیں ماند پڑ گئیں

اس رد عمل کا اظہار مری میں جاں بحق ہونے والے صادق آبادراولپنڈی کے بدقسمت خاندان کی اجتماعی نماز جنازہ کے شرکا نے میڈیا
نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیاقبل ازیں مری کے المناک سانحہ میں جاں بحق ہونے والے محمد شہزاد ان کی اہلیہ صائمہ شہزاد10سالہ بیٹے حبیب اللہ عمر،8سالہ سمیع اللہ12سالہ بیٹی عائشہ شہزاد اور14سالہ اقرا شہزاد کی نماز جنازہ اتوار کے روز شہباز شریف پارک راول روڈ پر ادا کی گئی ایک ساتھ 6جنازے اٹھنے پر علاقے میں


کہرام مچ گیا اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی نماز جنازہ میں وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے نارکوٹکس کنٹرول شیخ راشد شفیق،جماعت اسلامی کے رہنما رضا احمد شاہ سمیت مقامی یونین کونسلوں کے چیئر مینوں، مقامی سیاسی عہدیداران، سماجی شخصیات اور ہزاروں کی تعداد میں اہلیان راولپنڈی و مری نے شرکت کی تاہم کوئی بھی سرکردہ
حکومتی و سیاسی شخصیت نماز جنازہ میں شریک نہ ہوئی نماز جنازہ کے شرکا نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور متوفیان کی رہائشی یونین کونسل سے منتخب ہونے والے صوبائی وزیر کی نماز جنازہ میں عدم شرکت پر کڑی تنقید کی محمد شہزاد مرحوم اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ کے بعد ان کی میتیں تدفین کے لئے

آبائی
علاقے ماڈل ٹاؤن سہالہ منتقل کر دی گئیں جبکہ دوسری جانب مری برفباری میں جاں بحق ہونے والے اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی نوید اور ان کی فیملی کے 7 افراد کی نماز جنازہ بھی اتوار کے روز ان کے آبائی علاقہ تلہ گنگ میں ادا کی گئی صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز حافظ عمار یاسر، ایم پی اے، ڈی سی بلال ہاشم اور ڈی پی او
چکوال محمد بن اشرف نے اجتماعی نماز جنازہ نے شرکت کی راولپنڈی میں نماز جنازہ کے بعد شہریوں نے سانحہ مری کو حکومت اور انتظامیہ کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب محکمہ موسمات نے پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا تو پھر انتظامیہ کی جانب سے پیشگی حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کئے گئے مری کے مقامی ایک نوجوان


نے بتایا کہ ہم جمعہ کے روز اپنے گاؤں میں ہی موجود تھے اور صورتحال کے پیش نظر ہم لوگ امدادی کاروائیوں کے لئے متاثرہ جگہوں پر پہنچے اس نے پورے اعتماد سے بتایا کہ امدادی کاروائیوں کے دوران انہوں نیبچوں اور خواتین سمیت برف میں دبے37افراد کو مردہ حالت میں نکالا نوجوان نے دعویٰ کیا کہ اموات کی تعداد اس سے
زیادہ ہے ابھی بہت مقامات ایسے ہیں جہاں پرہفتہ کی رات تک برف ہتانے کا کام ہی نہیں کیا جاسکا تھا اس نوجوان نے مزید بتایا کہ مری کے ایک ہوٹل نے ایک فیملی سے رات قیام کے عوض کرائے کی مد میں 72ہزار روپے کرایہ وصول کیاشہریوں کا کہنا تھا کہ اگر ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کو اس بات کا علم تھا کہ مری میں صرف


3500گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش موجود ہے تو پھر ڈیڑھ لاکھ سے زائد گاڑی کو داخلے کی اجازت کیوں دی گئی انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد صرف تول پلازہ سے ریونیو اکٹھا کرنا تھا اسی طرح مری کے منتخب اراکین اسمبلی انتظامیہ پر دباؤ ڈالتے رہے کہ مری میں سیاحوں کو داخلے سے روکنے سے سیاحت کا فروغ خطرے میں
پڑ جائے گا مری مٰن سیاحوں کے جم غفیر کے باعث ہوٹل مافیا نے 3سے8ہزار روپے کمرے کا کرایہ 20سے50ہزار روپے کر دیا تھا جہاں پر سیاحوں کو گرم پانی سمیت کسی قسم کی کوئی سہولت میسر نہ تھی جبکہ بعض ہوٹل مالکان صرف بیت الخلا استعمال کرنے والی فیملیوں سے 500روپے معاوضہ وصول کرتے رہے اسی


طرح انتہائی غیر معیاری چائے،کافی اور کھانے کے قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی تھیں جس سے بیشتر سفید پوش فیملیوں نے شدید طوفانی برفباری کے باوجوداپنے بچوں کے ساتھ گاڑیوں میں رہنے پر اکتفا کیا نماز جنازہ میں شریک تحصیل مری کے رہائشیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف چند خاندانوں کی المناک موت پر ختم نہیں
ہوا بلکہ مختلف مقامات پر4سے8فٹ برفباری کے بعد وہاں کی مقامی آبادی بھی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے جن کے پاس ادویات اور اشیائے خوردونوش سمیت تمام اشیائے ضروریہ بالکل ختم ہو چکی ہیں اور حکومت و انتظامیہ کی اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں ہے شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر چہ یہ اللہ کی جانب سے ایک امتحان تھا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری حکومت اور انتظامیہ اس امتحان میں بری طرح ناکام ہو گئی شہریوں


نے مطالبہ کیا کہ سب سے پہلے مری کے ہوٹل مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کر کے وہاں کے ہوٹلوں کو مکمل چیک کیا جائے اور ہوٹلوں کے کرایوں سے لے کر کھانے پینے کی اشیا تک سرکاری سطح پر ریٹ مقرر کر کے ان پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور سانحہ کے دوران پیشہ ورانہ غفلت کے مرتکب انتظامی و پولیس افسران کے خلاف جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کو معقول معاوضہ دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں