’’محب وطن‘‘ ہونے کی وجہ سے بھارت میں کام کی پیش کش مسترد کی، ایمان علی کا دعویٰ

اداکارہ و ماڈل ایمان علی نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں انہیں بھارت سے کام کرنے کی متعدد بار پیش کش ہوئی مگر انہوں نے ’محب وطن‘ ہونے کی وجہ سے وہاں کام سے انکار کردیا۔واسع چوہدری کے پروگرام ’گھبرانا منع ہے‘ میں بات کرتے ہوئے ایمان علی نے انکشاف کیا کہ ماضی میں جب وہ بھارتی دورے

پر گئی تھیں تو انہیں متعدد فلم سازوں نے کام کی پیش کش کی۔ایمان علی کے مطابق انہیں فلم ساز امتیاز علی اور وشال بھردواج نے بھی کام کی پیش کش کی مگر انہوں نے پہلی بار ہی فلموں کی کہانی سنے بغیر ہی ان سے معذرت کی۔اداکارہ نے بتایا کہ ایک تو انہوں نے ’محب وطن‘ ہونے کی وجہ سے بھارتی فلم سازوں کے ساتھ کام سے انکار کیا، دوسرا یہ کہ انہیں معلوم تھا کہ دونوں فلم سازوں کی فلمیں بولڈ ہوتی ہیں، اس لیے انہوں نے ان کے ساتھ کام سے معذرت کی۔پروگرام میں ایمان علی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے پاکستان کی بھی متعدد سپر ہٹ فلموں میں کام کرنے سے انکار کیا، کیوں کہ انہیں تمام فلموں میں ہیروئن کے کردار پسند نہیں آئے۔

ایمان علی نے بتایا کہ انہیں ’جوانی پھر نہیں آنی، نامعلوم افراد، پنجاب نہیں جائوں گی، کراچی سے لاہور اور آزادی‘ سمیت دیگر فلموں میں کام کی پیش کش ہوئی تھی مگر انہوں نے انکار کردیا۔اداکارہ کے مطابق ایک تو وہ ہر کسی کے ساتھ فلم میں کام نہیں کرتیں، وہ اس فلم میں ہی کام کرتی ہیں جس کی ہدایات ان کے دوست دے رہے ہیں یا پھر اس کی کہانی ان کے کسی دوست نے لکھی ہو۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ چوں کہ ’نامعلوم افراد اور جوانی پھر نہیں آنی‘کے مرکزی کردار مرد حضرات کے تھے، اس لیے انہوں نے ان میں کام سے انکار کیا۔

ایمان علی کے مطابق ’پنجاب نہیں جائوں گی‘ میں بھی ہیروئن کے کردار کے ساتھ لکھاری نے ناانصافی کی، اس لئے انہوں نے مذکورہ فلم میں بھی کام نہیں کیا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ شادی کے بعد ان کی زندگی بہتر اور اچھی بن گئی ہے اور اب وہ ہر وقت انجوائے کرتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں