133

نتھیا گلی میں پرتعیش ہوٹل بنانے کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں کامیاب پی ٹی آئی کو ڈونیشن دینے والے ممتاز مسلم پاکستان سٹیل ملز کے نادہندہ نکلے

نتھیا گلی میں پرتعیش ہوٹل بنانے کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں کامیاب پی ٹی آئی کو امداد (ڈونیشن) دینے والے شخص، ممتاز مسلم گزشتہ 25؍ برس سے پاکستان اسٹیل ملز کے نادہندہ ہیں
حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ نے اُن کیخلاف فیصلہ جاری کرتے ہوئے اُن سے 12؍ کروڑ روپے بمع 10؍ فیصد مارک اپ وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی خبر

کے مطابق 1990ء کی دہائی میں ممتاز مسلم پاکستان اسٹیل ملز کیلئے سپلائر کا کام کرتے تھے۔مارچ 1996ء میں انہیں اسٹیل ملز انتظامیہ نے ’’رول ٹرننگ لیتھ مشین‘‘ فراہم کرنے کا ٹھیکہ دیا۔ معاہدے کے تحت انہیں مجموعی رقم کا 33؍ فیصد حصہ ادا کر دیا گیا لیکن وہ مشین فراہم کرنے میں ناکام رہے جبکہ رقم واپس کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ بعد میں وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے اور دبئی جا بیٹھے۔ 25؍ سال قبل اسٹیل ملز سے ملنے والی پیشگی رقم واپس کرنے کی بجائے ممتاز نے الٹا اسٹیل ملز پر مقدمہ کر دیا۔ تاہم، 4؍ مئی 2018ء کو سندھ ہائی کورٹ نے اُن کیخلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اسٹیل ملز کو رقم بمعہ مارک اپ ادا کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ معاہدے پر عمل میں ناکام ہوئے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے سے ایک ہفتہ قبل عمران خان نے اُنہیں 26؍ اپریل 2018ء کو خصوصی منصوبہ جات کے چیئرمین کا سینئر ایڈوائزر مقرر کر دیا۔الیکشن کمیشن کی فارن فنڈنگ کے حوالے سے قائم اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ممتاز مسلم پارٹی کو امداد (ڈونیشن) دینے والوں میں سے ہیں اور انہوں

نے پی ٹی آئی کو 24؍ ہزار 979؍ ڈالرز دیے تھے۔ وہ ہوٹلز کے ایک بڑے گروپ کے مالک اور چیئرمین ہیں اور ساتھ ہی دریشک سیکورٹی سولیوشنز کے مالک ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں سیکورٹی فراہم کرتی ہے۔ اکتوبر 2021ء میں پی ٹی آئی حکومت نے انہیں نتھیاگلی میں پرتعیش ہوٹل تعمیر کرنے کا ٹھیکہ دیا۔سندھ ہائی کورٹ کے فصیلے کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسٹیل ملز نے ممتاز مسلم کو

ٹھیکہ اس لئے دیا تھا کیونکہ انہوں نے زیادہ بولی دی تھی تاہم وہ معاہدہ پورا کرنے میں ناکام رہے۔اسی طرح انہوں نے نتھیا گلی میں ہوٹل کی تعمیر کے ٹھیکے کی بھی زیادہ بولی دی تھی۔ اسٹیل ملز کیلئے ممتاز مسلم نے چائنیز کمپنی میسرز ڈالیان مشینری امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن کے ساتھ مل کر 184.99؍ ملین روپے کی بولی لگائی تھی۔اپنے معاہدے میں انہوں نے 33 فیصد رقم

انشورنس گارنٹی کی مد میں پیشگی طلب کی تھی جبکہ 62 فیصد مشین کی ڈلیوری کے وقت ان لینڈ ایل سی کی صورت میں جبکہ باقی پانچ فیصد مشین کی حوالگی اور تنصیب کے وقت ادائیگی کی صورت میں۔ مالی امُور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر جیسے میگا پروجیکٹس کا ٹھیکہ دینے سے قبل حکومت بولی دینے والوں کا بغور جائزہ لیتی ہے اور ان کے مالی حالات

کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے۔مالی امُور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر جیسے میگا پروجیکٹس کا ٹھیکہ دینے سے قبل حکومت بولی دینے والوں کا بغور جائزہ لیتی ہے اور ان کے مالی حالات کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ بولی دینے والی سرکاری کمیٹی نے اس بات کا جائزہ لیا بھی تھا یا نہیں کہ ممتاز مسلم یا ان کی مالی حالت کیا ہے یا کہیں وہ

ڈیفالٹر تو نہیں یا پھر اُن کیخلاف کوئی عدالتی فیصلہ تو نہیں آیا ہوا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) میں پانچ پرائیویٹ ارکان ہیں جن میں احسان مانی (چیئرمین)، نوید اے خان، جاوید ترک، محمد عالم، نجیب عباسی اور دو مقامی ارکان صوبائی اسمبلی (جن میں ایک پی ٹی آئی کا ہے) اور چار سرکاری ملازمین (سیکریٹری ٹوئر ازم، سیکریٹری ماحولیات، کمشنر ہزارہ اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے) شامل ہیں۔

بورڈ نے ہی نتھیا گلی ہوٹل کی نیلامی کے پروجیکٹ کے پورے عمل کی نگرانی کی اور اسے حتمی شکل دی۔ قبل ازیں، وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ ممتاز مسلم پارٹی کا وفادار ساتھی ہے، اور مجھے اُن کی سیکورٹی کمپنی کا علم نہیں۔ہوٹل کنٹریکٹ کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ممتاز مسلم نے بولی میں کامیابی حاصل کی ہے۔ رابطہ کرنے پر جی ڈی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ بولی کا

عمل شفاف تھا اور جی ڈی اے کے بورڈ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ صرف وہی کمپنیاں شرکت کریں جن کی مالی حیثیت شرائط پر پورا اترتی ہو۔کمیٹی نے یہ بھی دیکھا کہ بولی دینے والی کمپنی کے مالی گوشوارے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق ہیں اور صرف اُنہی کمپنیوں کو بولی کے عمل میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بورڈ نے 200؍ ملین روپے کا بینچ مارک مقرر کیا

تھا اور بولی میں کامیاب ہونے والی کمپنی بیرون ہوٹل (ممتاز مسلم کی ملکیت) نے پروجیکٹ کیلئے 850.2؍ ملین روپے کی بولی لگائی جو بینچ مارک رقم سے چار گنا زیادہ ہے۔دوسری جانب ممتاز مسلم نے کہا کہ انہوں نے پروجیکٹ میرٹ پر حاصل کیا ہے کیونکہ انہوں نے زیادہ بولی لگائی۔ انہوں نے بڈنگ کے عمل کی تفصیلات کے حوالے سے بھی تحریری تفصیلات پیش کیں، 8؍ کمپنیوں کو ٹینڈر دستاویزات موصول ہوئیں، چار نے کوالیفائی کیا جبکہ شرائط پورا نہ کرنے والی باقی چار کمپنیاں مسترد کر دی گئیں۔ بولی میں بیرون ہوٹلز کمپنی کامیاب رہی۔ جب اُن سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے اور اسٹیل ملز سے ڈیفالٹر ہونے کا سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں