نذیر چوہان گرفتاری دینے آئے، پولیس نے گرفتار کرنے سے انکار کر دیا

جہانگیر ترین گروپ کے رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں گرفتاری دینے کے لئے تھانہ ریس کورس پیش ہو گئے تاہم پولیس نے سپیکر پنجاب اسمبلی سے گرفتاری سے متعلق اجازت نہ ہونے کوجواز بناتے ہوئے گرفتاری

سے انکار کر دیا، نذیر چوہان نے آج (پیر)کے روز شہزاد اکبر کے خلاف مقدمے کے اندراج کیلئے درخواست دینے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق جہانگیر ترین گروپ کے رکن پنجاب اسمبلی بڑی تعداد میں کارکنوں کے ہمراہ مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں گرفتاری دینے کے لئے تھانہ ریس کورس پہنچے۔ اس سے قبل ان کے حلقے سے حمایتی کارکن بڑی تعداد میں ریلی کی صورت میں روانہ ہوئے جو سارے راستے نذیر چوہان کے حق میں او رشہزاد اکبر کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ کارکنوں کی جانب سے نذیر چوہان کے حق میں پورے حلقے میں بھی بینرز آویزاں کر دئیے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ نا معلوم افراد نے اکبر چوک میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار او رنذیر چوہان کی تصاویر والے فلیکس پر صرف نذیر چوہان کی تصویر پر سیاہی پھیر دی۔نذیر چوہان کے ریلی کی صورت تھانہ ریس کورس آنے کی اطلاع پر کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی۔نذیر چوہان کے پہنچنے پر کارکنوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے اورحق میں نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نذیر چوہان نے کہا کہ میں نے شہزاد اکبر کے حوالے سے جو بات کہی تھی اس پر آج بھی قائم ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں