نواز شریف کا الیکشن کمیشن سےاین اے249 میں دھاندلی کی انکوائری کا مطالبہ

2018ء میں جب 40 فیصد ٹرن آؤٹ تھا تو پیپلزپارٹی کے ووٹ کم، اب ٹرن آؤٹ21 فیصد ہے ووٹ دوگنا کیسے ہوگئے؟ دھاندلی نہ کی جاتی تو ملک اور پیپلزپارٹی دونوں کیلئے اچھا تھا۔ قائد ن لیگ کی میڈیا سے گفتگو

نواز شریف کا الیکشن کمیشن سےاین اے249 میں دھاندلی کی انکوائری کا مطالبہ

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کراچی الیکشن کی انکوائری کا مطالبہ کردیا، انہوں نے کہا کہ جب 40 فیصد ٹرن آؤٹ تھا تو پیپلزپارٹی کے ووٹ کم،اب ٹرن آؤٹ 21 فیصد ہے ووٹ دوگناکیسے ہوگئے؟ دھاندلی نہ کی جاتی تو ملک اور پیپلزپارٹی دونوں کیلئے اچھا تھا۔ انہوں نے لندن میں میڈیا سے گفتگو میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن انکوائری کرے کہ دھاندلی کس نے کی ہے؟جب 40 فیصد ٹرن آؤٹ تھا تو پیپلزپارٹی کو کم ووٹ پڑے تھے اوراب ٹرن آؤٹ 21 فیصد ہے پیپلزپارٹی کے ووٹ دوگنا ہوجاتے ہیں۔

نوازشریف نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں 40 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا، اب 21 فیصد ووٹ ڈالا گیا، جب 40فیصد تھا تو مسلم لیگ ن نے 34ہزار 626ووٹ لیے، اب ٹرن آؤٹ کم ہے تو 15ہزار 473ووٹ لیے، پیپلزپارٹی نے 2018میں 7ہزار 236ووٹ لیے، اب ٹرن آؤٹ 21فیصد ہے تو 16ہزار156ووٹ لے رہی ہے۔

190پولنگ اسٹیشنز میں مسلم لیگ جیت رہی تھی پھر کئی گھنٹے نتائج رکے تو مسلم لیگ ن ہارنا شروع ہوجاتی ہے یا ہروای اجاتا ہے۔ ڈسکہ الیکشن کے بعد میں نے کہا تھا جب بھی انتخابی نتائج میں دیر ہونا شروع ہوجائے تو سمجھ جائیں ووٹ کہیں نہ کہیں چوری ہونا شروع ہوگیا ہے۔ شہری حلقہ ہے، سٹاف آدھے گھنٹے میں دفتر پہنچ سکتا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے پارٹی قائدین بھی عوام کے سامنے ساری چیزیں لے کر آئیں گے۔

انہوں نے بشیرمیمن کے انکشافات سے متعلق کہا کہ یہ کیسا وزیر اعظم ہے جو ایف آئی کے سربراہ کو کہتا ہے کہ جو کام تم نہ کر سکے وه میں نے نیب کے چئیرمین کو ایک فون کر کے کروا دیا ہے، پھر کہتا ہے کہ مریم نواز پر دہشتگردی کا مقدمہ بنا دو، قاضی فائز عیسیٰ پر دہشتگردی کا مقدمہ بنا دو، کیا اس طرح سے ملک یا وزارت عظمیٰ کو چلایا جاتا ہے؟ ایک ایک ارب ڈالر کیلئے کشکول لے کر بھیک مانگ رہے ہیں، کشکول بھی وہ لوگ لے پھر رہے ہیں جو کہتے تھے کہ کشکول پھیلانے سے بہتر ہم خود کشی کرلیں گے؟ انہوں نے ملک کا کیا حشرکردیا ہے؟ پاکستان کی عزت کو داؤ پر لگا دیا ہے، ملک کو برباد کردیا ہے، لوگ بھوکے پھر رہے ہیں، چینی آٹا، دوائی نہیں ملتی، کورونا کی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے این اے249 میں شکست کو دھاندلی قرار دیتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا کہ کراچی کے عوام کی محبت پر اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں۔ مفتاح اسماعیل کو حقیقی کامیابی پر مبارکباد۔ ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کے ساتھ کھڑا رہنے پر عوام کو خراج تحسین۔ انہوں نے کہا کہ 190پولنگ سٹیشنز تک مسلم لیگ ن جیت رہی تھی کہ اچانک ڈسکہ کی طرح بقیہ نتائج کو کئی گھنٹے تک روک دیا گیا۔ اختتام پر مسلم لیگ ن کو 683 ووٹوں سے ہروا دیا گیا۔ جو کہ مسترد شدہ ووٹوں سے بھی کم ہیں۔ نوازشریف نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی کراچی کی روشنیاں اور امن بحال کیا تھا اور آئندہ بھی کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں