نیب کے نام پر لوٹ مار کرنے والوں کی نشاندہی پر 50 سے زائد سرکاری افسران اور تاجر شامل تفتیش

نیب کے نام پر لوٹ مار کرنے والوں کی نشاندہی پر 50 سے زائد سرکاری افسران اور تاجروں کو تحقیقات میں شامل تفتیش کرلیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق چیئرمین اور ڈی جی نیب کے نام پر لوٹ مار کرنے والے گرفتار ملزم کی نشاندہی پر نیب کراچی نے تحقیقات میں 50 سے زائد سرکاری افسران اور تاجروں کو شامل تفتیش کرلیا ہے۔نیب ذرائع نے بتایا کہ

خالد سولنگی نامی ملزم اور اس کا گروپ نیب افسران بن کر سرکاری افسران اور تاجروں کو بلیک میل کرکے رقم لیتے تھے، اور کیسز ختم کرنے کے جھوٹے وعدے کئے جاتے تھے، گزشتہ ماہ جعلساز خالد سولنگی کے بیٹے عامر کو لاہور سے گرفتار کیا گیا، اور ملزمان کے زیرِ استعمال 4 سو سے زائد سمز بھی نیب حکام نے برآمد کرلیں، جب کہ خالد سولنگی کو دبئی سیانٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کے لئے نیب نے وزارت داخلہ کو درخواست بھیج دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق ڈی جی نیب کے نام پر جعلساز خالد سولنگی کو رقم دینے والوں میں ایڈیشنل ہوم سیکرٹری عامر خورشید بھی شامل ہیں، تاہم نیب کی طلبی پر عامر خورشید جواب دینے کے بجائے رخصت پر امریکا چلے گئے۔ اسپیشل ہوم سیکرٹری نے مقدمات سے بچنے کے لئے 80 لاکھ روپے جعلساز کو ادا کئے، جب کہ عامر خورشید پر حقیقت میں لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے نیب میں تحقیقات جاری ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جعلساز خالد سولنگی اور اس کے بیٹے عامر حسین کو ڈسٹرکٹ فوڈ آفیسر بدین منور میرانی نے بھی رقم دی، فوڈ آفیسر منور میرانی نے 50 لاکھ روپے ادا کئے اور اسے مزید 30 لاکھ ادا کرنے تھے۔ تاجر رفیق قریشی نے بھی جعلساز گروہ کے سرغنہ خالد سولنگی کے گرفتار بیٹے عامر کو کروڑوں کی ادائیگی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں