وزیراعظم صاحب! میں بیوہ ہوں، میری والدہ بھی بیوہ ہیں، میری والدہ نے پوری زندگی محنت کرکے گھر بنایا جس پر قبضہ ہو گیا ہے، خاتون کی آب بیتی سن کر وزیراعظم بھی افسردہ ہو گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ +این این آئی) وزیراعظم عمران خان سے عائشہ نامی خاتون نے فون کال پر کہا کہ آپ کی عوام آپ سے بہت پیار کرتی ہے، میرا مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ کہیں شنوائی نہیں ہوتی، میں بیوہ ہوں اور میری والدہ بھی بیوہ ہیں، کوئی میرا بہن بھائی نہیں ہے تین سال کا میرا بیٹا ہے، 65 سال کی ٹیچنگ کی کمائی سے میری والدہ

نے سنگل سٹور کا گھر بنایا ہے، اس گھر کو 2019ء میں ہم نے کرائے پر دیا، وہ ایس ایس پی کا بھائی تھا انہوں نے قبضہ کر لیا، شیخ عمر نے وہ قبضہ ہمیں دلوایا، لیکن میں اس وقت پانچ لاکھ کی مقروض ہو گئی، شیخ عمر نے کہا تھا کہ ان کا مسئلہ حل کروائیں لیکن ان کی ٹرانسفر ہو گئی، نئے سی سی پی او نے بھی ہدایت کی لیکن ایس ایس پی کے بھائی ہونے کے ناتے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو رہا، نتیجہ یہ نکلا کہ ٹینشن کی وجہ سے میری والدہ کینسر کی مریضہ ہو گئی ہیں اور میرے پاس کفن کے بھی پیسے نہیں ہیں،اس موقع پر خاتون رونے لگ گئیں، میں قرضہ لے کر اپنی والدہ کا علاج کروا رہی ہوں، آپ مجھے بتائیں کہ میں بچے کو پالوں، لوگوں کے پیسے دو یا پھر قرض واپس کروں، کم از کم میرے پاس سوسائٹی سے دلوائیں۔ آپ کے نمائندوں کے پاس بھی گئی لیکن صرف رسوائی ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان خاتون کی دکھ بھری باتیں سن کر خود بھی افسردہ ہو گئے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارا سسٹم آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ گیا ہے، انصاف کمزور کو چاہیے ہوتا ہے، وزیراعظم نے مسئلے کے حل کی یقین دہانی کرا دی،دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کشمیریوں کے خون پر بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی، بھارت سے اِس وقت تعلقات بہتر کرنا کشمیری شہدا کے خون سے غداری

ہوگی،اگر بھارت 5 اگست کے اقدامات سے واپس جائیں تو پھر بات ہوسکتی ہے، پھر مسئلہ کشمیر پر ایک روڈ میپ لاسکتے ہیں،مسئلہ فلسطین کا حل ظلم نہیں۔اتوار کووزیراعظم عمران خان نے ”آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ“ کے عنوان سے عوام سے ٹیلی فون پر خارجہ امور کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر

بات کروں گا، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بھارت سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں، ایک طرف ہمارے پاس دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، دوسری طرف بھارت ایک ارب سے زائد آبادی کے ساتھ بڑی مارکیٹ ہے، تو ہمارے رابطے ہوں اور تجارت شروع ہوجائے تو سب کو فائدہ ہوتا ہے، جب یورپی یونین بنی تھی تو سب کو فائدہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں، اسی لیے میں نے حکومت میں آنے کے بعد پوری کوشش کی کہ بھارت سے تعلقات اچھے ہوں، ایک ہی مسئلہ کشمیر ہے جس کو بات چیت سے حل کریں۔وزیر اعظم نے کہاکہ اگر ہم اس وقت بھارت سے تعلقات معمول پر لاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم کشمیر

کے لوگوں سے بہت بڑی غداری کریں گے، ان کی ساری جدوجہد اور تقریباً ایک لاکھ شہدا کو نظر انداز کریں گے، اس میں کوئی شک نہیں ہماری تجارت بہتر ہوگی لیکن کشمیر کا خون ضائع ہوجائے گا، لہٰذا یہ نہیں ہوسکتا،کشمیریوں کے خون کی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ انہوں نے کس قسم کی قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں، اس لیے ان کے خون پر پاکستان کی

تجارت بہتر ہوگی تو یہ نہیں ہوسکتا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر بھارت 5 اگست کے اقدامات سے واپس جائیں تو پھر بات ہوسکتی ہے، پھر ہم مسئلہ کشمیر پر ایک روڈ میپ لاسکتے ہیں اور بات بھی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فلسطین کامسئلہ بھی کشمیر جیسا ہے، بھارت باہر سے لوگوں کو لاکر مقبوضہ کشمیر کی شناخت تبدیل کررہا ہے اور یہی کام اسرائیلی کررہے ہیں، مسئلہ فلسطین کا حل ظلم نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں