پی ٹی آئی اور بی اے پی کے اختلافات میں شدت آگئی

پی ٹی آئی اور بی اے پی کے اختلافات میں شدت آگئی

وزیراعلیٰ بلوچستان ناقابل قبول ہیں ، پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت جام کمال کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سرگرم ہوگئی ، ذرائع

پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت اور بلوچستان کی حکمران جماعت بی اے پی کے اختلافات میں شدت آگئی ، پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو عہدے ہٹانے کے لیے سرگرم ہوگئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعلی ٰبلوچستان کو ہٹانے کے معاملے کے لیے پی ٹی آئی بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر یار محمد رند چند روز سے اسلام آباد میں موجود ہیں ، جب کہ پی ٹی آئی کے ارکان صوبائی اسمبلی بھی اسلام آباد پہنچنا شروع ہو گئے ہیں ، یار محمد رند کی قیادت میں صوبائی وفد اسد عمر سے ملاقات کرے گا ، جس میں پی ٹی آئی بلوچستان کی قیادت اپنے موقف سے انہیں آگاہ کرے گی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ناقابل قبول ہیں۔

دوسری طرف بلوچستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر یار محمد رند نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی ، یار محمد رند نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف نوٹی فکیشن کی حد تک وزیر اعظم کا معاون خصوصی ہوں، لیکن عملی طور پر میں کچھ نہیں ہوں ، یار محمد رند کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین سالوں میں انہیں وفاقی وزیر توانائی کے کسی اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا یا پانی و توانائی کے مسئلے پر کبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا ، یہی نہیں یار محمد رند نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور واپڈا پر بلوچستان کے عوام کو مناسب گیس اور توانائی کی سپلائی سے محروم رکھنے اور بلوچستان کی عوام پر ظلم ڈھانے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پانی و توانائی کا قلمدان اس شخص کو دیا گیا ہے جو بلوچستان کے عوام کی مشکلات کے حوالے سے انہیں سننے کو تیار نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں