پی ڈی ایم کا حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پارلیمنٹ میں ساتھ ملا کر بجٹ کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ، 4 جولائی سے حکومت کے خلاف ایک بار پھر بھرپور تحریک شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، ملک بھر میں جلسے اور احتجاجی مظاہر ے کئے جائیں جبکہ پی ڈی ایم نے خطے کی صورتحال کو تشویش ناک قراردیتے ہوئے

ملکی دفاعی اور افغانستان کی صورت حال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے ادار وں کی جانب سے ان کیمرا بریفنگ دیئے جانے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ حکومت کی کرپشن اور غیر آئینی اقدامات کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، قانونی ماہرین کی ٹیم تشکیل دی جارہی ہے، ووٹنگ مشین کی تجویز کو بھی مسترد کردیا گیا ہے ۔ پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس ہفتہ کو ن لیگ کے اسلام آباد سیکرٹریٹ میں ہوا، جس کی میزبانی مسلم لیگ ن اور صدارت سربراہ پی ڈی ایم فضل الرحمان نے کی۔ اجلاس میں شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، آفتاب شیر پاؤ، محمود خان اچکزئی، میر کبیر شاہی، طاہر بزنجو بھی شریک ہوئے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، اسحاق ڈار اور عابد شیرعلی ویڈیو لنک پر شریک ہوئے، جب کہ تحریک انصاف کی اتحادی صف سے نکل کر پی ڈی ایم میں شامل ہونے والے بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل بھی ویڈیو لنک پر موجود تھے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور پی ڈی ایم کی حکمت عملی پر مشاورت ہوئی، اور پیپلزپارٹی اور اے این پی کی واپسی سے متعلق معاملات بھی زیر غور لائے گئے۔ پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو جاری شوکاز نوٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ

مولانا فضل الرحمان نے دونوں پارٹیوں کو اپنے فیصلوں پرنظرثانی کے لیے کہا لیکن دونوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، ن لیگ کا دونوں جماعتوں بارے موقف واضح ہے، اب پی ڈی ایم ان دونوں بارے فیصلہ کرے۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کے بعد تمام جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو فیصلے کا اختیار دے دیا۔ اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی

اور اے این پی کو پارلیمنٹ میں ساتھ ملایا جائے گا، بجٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے مل کر مخالفت کا فیصلہ کیا ہے اور جعلی حکومتی اعداد و شمار بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر کردار ادا کریں گی۔ اجلاس میں نواز شریف نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کی واپسی پر موقف واضح کیا، جب کہ نائب صدر مسلم لیگ

ن مریم نواز نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں غور کیا گیا کہ خطے کی صورت حال تشویش ناک ہوتی جارہی ہے، ہماری حکومت عوام کی منتخب حکومت نہیں ہے، جس حکومت کو عوام کی تائید حاصل نہ ہو تو وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ

پی ڈی ایم نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اور خطے کی صورت حال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور دفاعی صورت حال ہو یا خارجہ پالیسی ہو، ان کیمرا اجلاس میں متعلقہ ادارے ایوان کو حقائق سے آگاہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے دوحہ معاہدہ اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت، نئی امریکی انتظامیہ کی ترجیحات، معاہدے پر ہونے والے ممکنہ اثرات اور

یہ افواہیں کہ پاکستان اپنے ایئربیسز امریکی طیاروں کو مہیا کرے گا، اسے پاکستان پر تزویراتی اور سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ افغانستان کی مزاحمتی قوت کے ردعمل سے پاکستان کن مشکلات سے دوچار ہوسکتا ہے، یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو پاکستان کے لیے حساس حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور ضروری ہوتو ان کیمرا اعتماد میں لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں