103

کرپٹو کرنسی کی آڑ میں پاکستانیوں سے 18 ارب روپے سے زائد کا فراڈ

ایک ایسی کرنسی جس کے ایک سکے کی قیمت پاکستانی 80لاکھ روپے سے زیادہ ہے

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے کرپٹو کرنسی میں 18 ارب سے زائد کے فراڈ کے حوالے سے عالمی کرپٹو ایکسچینج کو نوٹس جاری کر دیاہے۔پاکستانیوں سے اربوں روپے کا فراڈ آن لائن ایپلیکشنز کے ذریعے کیا گیا، آن لائن ایپلیکیشنز کرپٹو کرنسی کی
عالمی ایکسچینج بائینانس سے جڑی تھیں۔ایف آئی اے سائبر کرائم نے بائینانس کے پاکستان میں جنرل منیجر کو نوٹس جاری کر دیاہے۔ایف آئی اے نے امریکا اور کے مین آئی لینڈ میں بائینانس کے ہیڈکوارٹر بھی نوٹس بھیجے ہیں۔ایف آئی اے کے مطابق ممکنہ طور پر کرپٹو کرنسی سے ٹیرر

فنانسنگ اور منی لانڈرنگ بھی ہو رہی تھی۔ایف آئی اے کے ہیڈ آف سائبر کرائم عمران ریاض نے اس حوالے سے بتایاکہ پاکستان میں 11 موبائل فون ایپلیکشنز بائینانس سے رجسٹرڈ تھیں جن کے ذریعے فراڈ ہوا، 11 موبائل فون ایپلیکیشنز دسمبر میں اچانک بند ہو گئیں، جن پر ہزاروں پاکستانی رجسٹرڈ تھے، ان ہزاروں پاکستانیوں نے ان ایپلی کیشنز پر اربوں روپے لگا رکھے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایپلی کیشنز کے ذریعے ابتدا میں ورچوئل کرنسیز میں کاروبار کی سہولت دی جاتی تھی، بٹ کوائن، ایتھرام، ڈوج کوائن وغیرہ میں سرمایہ کاری بائینانس کے ذریعے ظاہر کی جاتی تھی، ایپلی کیشنز کے ٹیلیگرام اکاونٹ پر ماہرین کرپٹو کرنسی پر جوا بھی کھلاتے تھے،

ایک ایپلی کیشن پر 5 سے 30 ہزار کسٹمر اور سرمایہ کاری 100 سے 80 ہزار ڈالر تھی، ایپلی کیشنز کے ذریعے عوام کو مزید افراد کو لانے پر بھاری منافع کا لالچ دیا جاتا تھا۔عمران ریاض نے بتایا کہ ایف آئی اے کو بائینانس کے 26 مشتبہ بلاک چین والٹ ملے جن پر رقوم ٹرانسفر ہوئیں، بائینانس سے ان بلاک چین والٹس کی تفصیلات مانگی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ایف آئی اے پاکستان سے بائنانس کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشن کی چھان بین کر رہی ہے، بائنانس ٹیرر فائنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے لیے آسان راستہ ہے، امید ہے کہ بائنانس ان مالی جرائم کی تحقیقات میں پاکستان سے تعاون کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں