کورونا ویکسی نیشن نہ کرانے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ بند کرنے کا حکم‎

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے تمام شہریوں کیلئے ویکسی نیشن کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سخت اقدامات کرکے اپنے شہریوں کو محفوظ بنانا ہے۔ انھوں نے یہ فیصلہ جمعرات کو وزیراعلی ہاس میں کورونا وائرس سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں

ویکسی نیشن کرانے کیلئے ضرورتی سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ دیہی علاقوں کے کم از کم 300 بنیادی یونٹس کو ویکسی نیشن سینٹرز میں تبدیل کیا جائے اور روزانہ 30 ہزار افراد کی ویکسی نیشن کا ہدف مکمل کیا جائے۔ مراد علی شاہ نے محکمہ صحت کو مزید ٹارگیٹ دیتے ہوئے کہا کہ ہر تعلقہ سطح پر پانچ موبائل ویکسی نیشن ٹیمیں قائم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 605 تعلقہ / تحصیل ہیں اور انہیں روزانہ کم از کم 60 ہزار افراد کی ویکسی نیشن کرنی ہوگی۔ وزیراعلی سندھ نے محکمہ صحت کو کہا کہ 90 نجی اسپتالوں کو پہلے ہی 10 ہزار ویکسی نیشن کا ہدف دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو حفاظتی ویکسین لگائیں۔ انہوں نے وزیر صحت کو ہدایت کی کہ وہ ویکسی نیشن کیلئے مزید نجی اسپتالوں کی رجسٹریشن کریں۔ پالیسی فیصلے کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے چیف سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ تمام سرکاری / نیم سرکاری / بلدیات کے ملازمین کو اپنے عملے کوویکسی نیشن لگوانے کیلئے جون تک کاوقت دیں اور ان ملازمین کی تنخواہیں روک دی جائیں جو اس مہینے کے اختتام تک ویکسی نیشن نہ کرالیتے، یعنی ویکسی نیشن نہ کرانے والے ملازمین کی تنخواہیں جون کے بعد بند کردی جائیں گی۔ سکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی نے اجلاس کو ویکسی نیشن رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 1550553 ڈوزز استعمال کی گئیں ہیں،

ان میں سے پہلی ڈوز میں 1121402 اور دوسری ڈوز میں 429223 ڈوز استعمال کی گئیں۔ 2 جون کو پورے صوبے میں 78799 ڈوزز دی گئیں جس میں 57541 پہلی ڈوز اور 21258 دوسری ڈوز شامل ہے۔ انڈین وائرس: اجلاس کو بتایا گیا کہ 29 مئی کی شام کوسندھ میں انڈین وائرس کے 4 کیسز کی نشاندہی کی گئی۔ متاثرہ مسافروں کی عراق اور عمان کی سفری تاریخیں تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں