گرینڈ ایونیو سوسائٹی کی جانب سے پیش کردہ 2 ارب 25 کروڑ مالیتی پلی بارگین درخواست منظور، 2150 متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جائے گا

نیب لاہور کی 21 سالہ تاریخ کی بڑی پلی  بارگین منظور

نیب لاہور کی 21 سالہ تاریخ کی بڑی پلی بارگین منظور ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق نیب لاہور کی جانب سے ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے گرینڈ ایونیو ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں 21 سالہ تاریخ کی بڑی پلی بارگین منظور کر لی گئی ہے۔ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں پانچ مئی کو ریجنل بورڈ میٹنگ منعقد کی گئی جس میں گرینڈ ایونیو سوسائٹی کی جانب سے پیش کردہ 2 ارب 25 کروڑ مالیتی پلی بارگین درخواست پر منظور کی گئی۔

ملزم ریاض احمد چوہان اور دیگر کی جانب سے 2 ارب 25 کروڑ کی پلی بارگین درخواست کی احتساب نے بھی توثیق کر دی ہے۔ترجمان لاہور کے مطابق پلی بارگین میں گرینڈ ایونیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے 2150 متاثرین کو ریلیف فراہم کروایا جا رہا ہے جن پر عمل درآمد کے لیے ملزم کی چار قیمتی جائیدادیں بحق سرکار رکھنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ملزم کی رہن کی گئی جائیدادوں میں فیروز پور روڈ پر وسٹا کیش اینڈ کیری اور ڈی ایچ اے فیز ایٹ میں تین قیمتی اپارٹمنٹ، ڈی ایچ اے فیز ایٹ میں موجود 68 بیش قیمت اپارٹمنٹ اور موضوع شہزادہ ماڈل ٹاؤن میں 52 کنال کی قیمتی اراضی بھی شامل ہے۔

ملزم سے 75 کروڑ 53 لاکھ کی رقم پہلی قسط کے طور پر بحق سرکار وصول کی گئی ہے۔گزشتہ تین سالوں کے دوران نیب لاہور بدعنوان عناصر سے 75 ارب سے زائد کی رقم برآمد کروانے میں کامیاب ہوا ہے۔قبل ازیں چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پلی بارگین جرم کے زمرے میں آتا ہے،جس کی متعلقہ احتساب عدالتیں منظوری دیتی ہیںپلی بارگین کے بعد ملزم نہ صرف تحریری طور پراپنا جرم تسلیم کرتا ہے بلکہ لوٹی گئی رقم بھی قومی خزانے میں جمع کرواتا ہے۔

اپنے بیان میںانہوں نے کہا کہ نیب بزنس کمیونٹی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ وہ ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیب نے بزنس کمیونٹی کی شکایات کے ازالے کیلئے خصوصی سیل قائم کئے ہیں۔نیب بیوروکریسی کا بھی احترام کرتا ہے اور نیب کے دفتر آ نے والے تمام افراد کے عزت واحترام کی ہدایت کی گئی ہے۔نیب نے موجودہ انتظامیہ کے دور میں 487 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں جو کہ ایک نمایاں کامیابی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں