گُردوں کی پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے خارج کرنے والی دُنیا کی سب سے طاقتور دال

دالیں پودوں سے ملنے والی پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں اور اس آرٹیکل میں کلتھی کی دال جو دُنیا کی سب سے زیادہ طاقتور دال ہے کے فوائد کا ذکر کیا جائے گا، کلتھی کی دال کو انگلش میں ہارس گرام کہا جاتا ہے جو دال مونگ، چنا، مسور، راجما وغیرہ سے زیادہ ہماری صحت کے لیے فوائد رکھتی ہے اور اسے عام طور پر جانوروں کے چارے میں استعمال کیا جاتا ہے

مگر طبیب حضرات کے نزدیک یہ دال انسانوں کے لیے کسی اکسیر سے کم نہیں ہے۔ پروٹین سے بھرپُور یہ دال آئرن، فاسفورس، فائبر، کلیشیم جیسی غذائی خوبیوں سے بھرپُور ہونے کے ساتھ صحت کے لیے انتہائی مُفید اینٹی آکسائیڈینٹس پر مشتعمل ہے جو ہمیں کئی دائمی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں، طب ایوردیک اور طب یونان کے ماہرین اس دال کو گُردے کی پتھری کے خاتمے کے لیے صدیوں سے مریضوں کو استعمال کروا رہے ہیں، گُردوں کی پتھری جسم میں کیلشیم کی مقدار میں اضافے کے باعث پیدا ہوتی ہے اور اس دال میں موجود اینٹی آکسائیڈینٹس جسم میں موجود منجمد کیلشیم کو خارج کر دیتے ہیں خاص طور پر اگر اس کیلشیم سے گُردوں میں پتھری پیدا ہو رہی ہے تو اس دال کا استعمال اس پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے پیشاب کے ذریئعے خارج کر دیتا ہے۔

کلتھی کی دال ہمارے نظام انہظام کو بھی درست رکھتی ہے کیونکہ اس میں فائبر کی بھی ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے، اس دال میں دو انتہائی اہم مرکبات جنہیں فلانڈز اور پولی فینلز کہا جاتا ہے پائے جاتے ہیں اور یہ دونوں ہمارے جگر کے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں جو جگر کے خون کو صاف کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ شوگر کے مریض افراد کے لیے یہ دال کسی اکسیر سے کم نہیں کیونکہ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ یہ خوراک سے شوگر کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے جس سے خون میں شوگر کا لیول بڑھتا نہیں ہے اور اس کی یہ خوبی ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے اور اگر ذیابطیس کے مرض میں اس دال کو روزانہ کی خوراک میں شامل کر لیا جائے تو یہ اس مرض کو قابو میں رکھنے میں انتہائی معاؤن ثابت ہوتی ہے۔

اس دال کی ایک اور خُوبی جسم کی اضافی چربی کو پگھلانا ہے جس سے موٹاپا جیسی بیماری سے بچا جا سکتا ہے خاص طور پر وہ افراد جو بڑھے ہُوئے پیٹ سے پریشان ہیں اس دال کو اپنی خوراک میں شامل کریں تو یہ دال جہاں اُن کا موٹاپا کم کرے گی وہاں اُنہیں کولیسٹرال کے بڑھنے جیسے مرض سے بچائے گی کیونکہ یہ خون سے بُرے کولیسٹرال کو ختم کر کے اچھے کولیسٹرال کا اضافہ کرتی ہے۔ بیمشار خُوبیوں کی حامل کلتھی نزلہ، زکام جیسے امراض کو بھی پیدا نہیں ہونے دیتی اور ہمارے نظام مدافعت کو مضبوط بنا کر ہمیں موسمی بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اگر جسم میں آئرن کی کمی واقع ہو جائے تو یہ دال آئرن کی کمی کو پُورا کرکے خون کے سُرخ ذرات میں اضافہ کرتی ہے جس سے سارے جسم میں آکسیجن کی سپلائی بہتر ہوتی ہے، جلد خُوبصورت ہوتی ہے گھنے اور لمبے ہوجاتے ہیں اورسارے جسم کو تقویت ملتی ہے۔ آپ اس دال کو اپنی خوراک میں شامل کرنے کے لیے اسے عام طریقے سے پکا کر کھانے کیساتھ ساتھ پیس کر اسکا پاوڈر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں