گھر پر بارات آنی تھی مگر آئی میت اور پھر گھر والے ۔۔ ٹرین حادثے میں مرنے والے لوگوں کے خاندانوں کی درد ناک داستان جو آپ کو بھی رُلا دے گی

پاکستان کے ہر دور حکومت میں ٹرین حادثات رونما ہوتے رہے ہیں۔ لوگ کئی مہینوں اور سالوں بعد اپنے پیاروں اور عزیز رشتہ داروں سے ملنے ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہیں لیکن انہیں علم تک نہیں ہوتا کہ آگے ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے،اور اچانک ٹرین حادثے کا شکار ہوجاتی ہے اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہوجاتا ہے۔

آخر پاکستان میں ٹرینوں کی بدترین صورتحال پر کیوں نظر ثانی نہیں کی جاتی، کیوں سفر سے قبل ٹرین کی اچھی طرح جانچ پڑتال نہیں ہوتی، یہ سارے سوالات اس وقت تک تازہ رہتے ہیں جب تک واقعہ تازہ رہتا ہے اور جب معاملہ ٹھنڈا پڑجاتا ہے یہی سوال محض سوال ہی بن کر رہ جاتے ہیں بس نقصان صرف عوام کا ہوتا ہے۔

حادثے کا شکار ٹرین میں موجود دو خاندانوں کی غم بھری داستان بتانے جارہے ہیں جس کو جان کر آپ کو بے حد افسوس ہوگا اور آپ یہی سوچیں گے کہ کاش وہ ٹرین ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہی نا ہوتی اور مسافر سوار ہی نہ ہوپاتے۔ حادثے کی شکار ہونے والی ملّت ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع لودھراں کے دو ایسے خاندان بھی شامل ہیں جس میں سے ایک فیملی اپنے والد کے علاج کے لیے جا رہے تھے جن میں والدہ، دو سگے بھائی اور تایا زاد بہن کل ٤ افراد شامل تھے لیکن بدقسمتی وہ ان کا زندگی کا آخری سفر تھا۔

جبکہ دوسرا خاندان جو کہ کراچی سے لودھراں شادی کے سلسلے میں روانہ ہورہا تھا، اُس خاندان کے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کراچی سے لودھراں کا سفر کرنے والے ایک ہی خاندان کے ہلاک ہونے والوں چار افراد میں محمد اسلم اور محمد علی سگے بھائی، صغیر بیگم ان کی والدہ اور روبینہ بی بی ان کی تایا زاد ہیں۔

محمد اسلم اور محمد علی کراچی کے ایک کباڑخانے میں مزدوری کرتے تھے۔ محمد اسلم نے سوگواروں میں بیوہ اور پانچ بچے جبکہ محمد علی نے بیوہ اور تین بچے چھوڑے ہیں۔

محمد اسلم اور محمد علی کے چچا محمد صفی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محمد اسلم اور محمد علی چھ بھائی ہیں۔ بہت سالوں پہلے ان کے والد کمانے کی غرض سے کراچی شہر منتقل ہوگئے تھے۔

محمد صفینے بتایا کہ محمد اسلم اور محمد علی کے والد برسوں کراچی میں رہے مگر جب بڑھاپا آیا اور بیماری نے انہیں گھیر لیا تو ضد کر کے واپس اپنے آبائی علاقے لوٹ آئے تھے۔

محمد اسلم اور محمد علی کے چچا کا کہنا تھا کہ اُ ن کے والد کہتے تھے کہ گاؤں کی آب و ہوا کراچی کی آب و ہوا سے کافی بہتر ہے بہرآل بچے کراچی میں اپنے کام میں مصروف ہوگئے اور وہ لودھراں میں رہنے لگے۔

محمد صفی کا کہنا تھا کہ ان کے والد کچھ عرصہ سے بیمار رہنے لگے تھے۔ جس پر ان کے بچے اور والدہ پریشان رہتے تھے۔

محمد صفی کا کہنا تھا کہ اسلم نے بہت جلدی میں ٹرین کا ٹکٹ کروایا تھا کیونکہ ان کے والد کی طبعیت خراب ہو رہی تھی۔ جب وہ ٹرین پر بیٹھے تو انھوں نے مجھے کال کی اور کہا کہ والد صاحب کو تیار کریں اور ان کو بتائیں کہ ہم ان کو کراچی لے کر جائیں گے۔ کچھ دن علاج کروائیں اور اس کے بعد چاہیں تو واپس آ جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ہم نے ان کے والد کا سامان وغیرہ تیار کرنا شروع کر دیا تھا کیونکہ اسلم نے کہا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایک دو دن ہی رک سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں رکیں گے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم سات جون کو دوپہر کا کھانا ساتھ کھائیں گے مگر ہمیں رات ہی کو اطلاع مل گئی تھی کہ ٹرین کا حادثے کا شکار ہوگئی۔

‘میرے بھتیجے خود پڑھ لکھ نہیں سکے تھے مگر ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں گے۔ اس کے لیے وہ بہت زیادہ محنت کرتے تھے۔ مگر اب دیکھیں دونوں سگے بھائیوں کی اولادیں ایک ساتھ یتیم ہو گئی ہیں۔ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟

ملت ایکسپریس حادثے میں لودھراں کے محمد اسحاق کے 22 سالہ بھتیجے اور کم عمر نواسی مقدس ہلاک ہوئے ہیں۔

حادثے سے پہلے محمد اسحاق شادی کی تقریب کے لیے آنے والے اپنے خاندان کے لوگوں کے استقبال کے لیے پُرجوش تھے۔ انھوں نے مہمانوں کے استقبال اور ان کی رہائش کا خصوصی انتظام کیا تھا۔

کراچی سے بارات آ رہی تھی جس نے لودھراں سے دلہن کو لے کر جانا تھا۔کراچی سے بارات لے کر آنے والوں نے تین بوگیاں بک کروائیں تھیں۔ ان کے خاندان میں یہ تقریب طویل عرصے بعد ہو رہی تھی۔ کورونا کی وجہ سے دو مرتبہ شادی کی تقریب ملتوی بھی ہو چکی تھی۔ چنانچہ اب سب لوگ بہت پُرجوش تھے۔

محمد اسحاق بتاتے ہیں کہ جب ان کا سفر شروع ہوا اور اُنھوں نے کال کی تو باراتی اس وقت ٹرین میں ہلا گلا کر رہے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں