گیلپ پاکستان سروے میں پاکستانیوں کی ملکی حالات خراب ہونے کی پیش گوئی

گیلپ پاکستان سروے میں پاکستانیوں کی ملکی حالات خراب ہونے کی پیش گوئی

92 فیصد پاکستانی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے پر سخت پریشان، 60 فیصد نے حکومت کی معاشی پالیسی ناکام قرار دے دیں، 76 فیصد کا گزشتہ 6 ماہ میں بے روزگاری میں اضافے پر تشویش کا اظہار

مہنگائی، ملکی معاشی حالات یا بے روزگاری، پاکستانی عوام سب سے زیادہ کس بات پر پریشان ہیں؟گیلپ پاکستان نے کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کی رپورٹ جاری کردی۔تفصیلات کے مطابق گیلپ پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ92 فیصد پاکستانی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے پر سخت پریشان ہیں۔

60 فیصد نے حکومت کی معاشی پالیسی ناکام قرار دے دیں جبکہ 76 فیصد نے گزشتہ 6 ماہ میں بے روزگاری میں اضافے پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی، ملکی معاشی صورت حال اور کورونا کے بڑھتیہوئے کیسز پاکستانی صارفین کیلئے پریشانی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں اور مستقبل کے حوالے سے پاکستانی صارف مطمئن نہیں۔

کنزیومر انڈیکس میں پاکستانی صارفین کے گھریلو مالی صورتِ حال، ملکی معاشی حالات، بے روزگاری اور گھریلو بچت جیسے چار اہم اشاریوں کا احاطہ کیا گیا، یہ سروے مارچ 2021 میں کیاگیا۔سروے میں پاکستانی صارفین کی اکثریت یعنی 92 فیصد نے روزمرہ کی قیمتوں میں اضافے پر پریشانی کا اظہار کیا، 4 فیصد نے قیمتوں میں کمی کا کہا جب کہ 3 فیصد نے کوئی فرق نہ آنے کا بتایا۔

کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کی پچھلے سال کی چوتھی سہ ماہی کی رپورٹ میں 93 فیصد صارفین نے قیمتوں میں اضافے کا کہا تھا۔سروے میں موجودہ ملکی معاشی صورتحال کو بھی 60 فیصد نے خراب کہا، 23 فیصد نے بہتر قرار دیا جب کہ 13 فیصد نے کہا کہ پچھلے 6 ماہ کے مقابلیمیں اس میں کوئی فرق نہیں آیا۔لیکن اگلے 6 ماہ میں ملکی معاشی صورت حال میں بہتری کے سوال پر 38 فیصد نے مایوسی کا اظہار کیا اور اس میں مزید خرابی کی پیش گوئی کی، اس کے برعکس 31 فیصد نے بہتری کی امید کی جب کہ 19 فیصد نے کسی بھی تبدیلی کے نہ آنیکا کہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں