یہاں شادی کے دن دلہنیں بھی کالا لباس پہنتی ہیں ۔۔ یہ خواتین 700سال سے سوگ میں کیوں ہیں؟

ویسے تو پاکستان میں مختلف قسم کے لوگ آباد ہیں، جن کی ثقافت، رسم و رواج منفرد ہوتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسا قبیلہ بھی آباد ہے جو برسوں سے سوگ منا رہا ہے۔

پاکستان میں سندھ کے ضلع ننگر پارکر میں آباد یہ قبیلہ پچھلے 700 سالوں سے اپنے حکمران دودو سومرو کی موت پر سوگ منا رہا ہے۔ اس قبیلے کی عورتیں کالیں کپڑے زیب تن کرتی ہیں اور اپنے حکمران سے عقیدت کا اظہار کرتی ہیں۔

ننگر پارکر کے ریباری قبیلے کی خواتین پچھلی 7 صدیوں سے ہر تہوار، خوشی اور غم کے موقع پر کالے کپڑے پہن رہی ہیں۔ سیاہ چادر، سیاہ گھاگرہ اور رنگین چولی، اس قبیلے کی خواتین کے لیے یہ لباس اپنے حکمران سے عقیدت کا اظہار ہے۔

قبیلے کی خواتین ہر وقت اسی سیاہ رنگ کے کپڑوں میں رہتی ہیں البتہ مردوں پر یہ پابندی نہیں ہے۔ جبکہ نوعمر لڑکیاں جب بالغ ہوجاتی ہیں تو انہیں بھی روایتی سیاہ کپڑے پہننا لازم ہے۔

جبکہ منفرد بات یہ بھی ہے کہ یہ خواتین اپنے ہاتھوں پر ٹیٹو بنواتی ہیں، حیران مت ہوں یہ ٹیٹو اسٹائلش نہیں ہوتے بلکہ روایتی سانپ، بچھو اور چاند تارے کے ڈیزائن ہوتے ہیں جو کہ یہ خواتین اپنے ہاتھوں پر بنواتی ہیں۔ قبیلے کی خواتین کا عقیدہ ہے کہ ڈیزائن والے ٹیٹو جادو ٹونے اور بیماریوں سے نجات دلاتے ہیں۔

700 سالوں سے افسردہ یہ خواتین اپنے ہاتھوں میں بڑے بڑے کڑے پہنتی ہیں جو کہ ہاتھوں سے بنائے جاتے ہیں۔

ننگرپارکر کے 100 دیہاتوں پر آباد اس قبیلے کا ماننا ہے کہ 700 سال قبل جب ریباری قبیلے کے افراد راجھستان سے سندھ ہجرت کر کے آئے تھے تو اس وقت کے حکمران دودو سومرو نے اس قبیلے کے مہاجرین کی امداد کی تھی اور انہیں تحفظ فراہم کیا تھا۔ تاہم علاؤالدین خلجی سے جنگ میں دودو سومرو کی موت پر قبیلہ یتیم ہوگیا تھا۔ اس وقت سے آج تک یہ قبیلہ اپنے حکمران کی موت کا غم منارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں