بڑے یورپی ملک نے افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کردیا

یورپی ملک اٹلی نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کردیا۔قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کے مطابق طالبان کے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کے مشن کے سربراہ ملا عبدالحق واثق کی سربراہی میں ایک وفد نے دوحہ میں

اطالوی سفارتخانے میں اٹلی کے وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی اینریکو سلوا سے ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں اٹلی نے وعدہ کیا کہ وہ افغانستان میں اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔طالبان ترجمان کے مطابق  اٹلی آئندہ چند روز میں اپنے سفیر کو واپس افغانستان بھیج دے گا۔ اطالوی وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی نے کہا کہ وہ افغانستان میں اپنے ادھورے پراجیکٹس مکمل کریں گے اور طالبان کے ساتھ مل کر معاشی اور انسانی حقوق کے کام کرتے رہیں گے۔دوسری جانب افغانستان سے امریکی افواج کے 20 سال بعد مکمل انخلا کے بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قومی اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق انھوں نے افغانوں سے اپیل کی ہے کہ ’ہمیں اپنے اختلافات بھول کر متحد ہونا ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری ملک کی حمایت نہیں کرے گی اگر لوگ متحدہ نہیں ہوں گے۔ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ آنے والی حکومت تمام افغانوں کی نمائندگی کرے گی۔ انھوں نے ملک کو درپیش معاشی مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ دوسرے ممالک کو افغانستان میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کی خدمت کرنے آئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان عالمی برداری سے ’اچھے تعلقات‘ چاہتے ہیں اور ہر مسئلے کو دوستانہ طریقہ سے حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں