ایک دو نہیں پوری پانچ جانوں کو بچانے والا ڈلیوری بوائے، جس نے بہادری کا ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے اس کے والدین کا سر فخر سے بلند کر دیا

عام طور پر ہمارے ارد گرد بہت سارے ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جن کو ہم اکثر ان کے پیشے یا ذرائع آمدنی کے سبب کمزور سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اسی وجہ سے عام کام کر رہے ہیں-

مگر کام کوئی بھی ہو چھوٹا بڑا نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کام کو کرنے سے انسان چھوٹا ہوتا ہے مگر اگر انسان کو کوئی چیز بڑا بناتی ہے تو وہ اس کا عمل ہوتا ہے ایسا ہی ایک واقعہ نے لاہور سے تعلق رکھنے والے ڈلیوری بوائے حیدر علی کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کے ایک عمل نے ان کو بہت سارے لوگوں کی نظر میں بہت خاص بلکہ ایک ہیرو بنا دیا-

تفصیلات کے مطابق جمعہ کی شام لاہور میں ایک گاڑی کو ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں گاڑی نہر میں جا گری اس وقت گاڑی میں ایک بزرگ خاتون سمیت پانچ افراد سوار تھے جو اس حادثے کے نتیجے میں جان بچانے کے لیے چلانے لگے-

اسی دوران ڈلیوری بوائے حیدر علی کا وہاں سے گزر ہوا حیدر علی جو کہ خود بھی نوجوان تھا اس نے جب حادثے کے مناظر کو دیکھا تو ایک پل سوچے بغیر وہ ان لوگوں کی مدد کے لیے نہر میں کود گیا-

خوشقسمتی سے حیدر علی تیراکی سے واقف تھا تو اس نے ان تمام ڈوبتے ہوئے افراد کو بچانا شروع کر دیا اور ایک ایک کو لے کر کنارہ تک لاتا گیا یہاں تک کہ ادھیڑ عمر خاتون کو بھی اس نے بچا لیا۔ حیدر علی کی بہادری کے سبب پانچوں افراد کی جان بچ گئی-

حیدر علی کی یہ بہادری ایک بڑے انعام کی مستحق ہے۔ اس واقعے کو پڑھ کر گزشتہ دنوں دبئی میں ہونے والے ایک واقعہ کی یاد تازہ ہو گئی جس میں ایک حاملہ بلی کو چھت پر سے گرنے سے بچانے کے لیے ایک پاکستانی جوان کی کوششوں اور اس کی ویڈيو کو نہ صرف دبئی کے وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے شئير کیا بلکہ اس کارنامے میں شامل تمام افراد کو بڑے انعام سے بھی نوازہ جس میں ہر فرد کو پاکستانی 22 لاکھ روپے دیے گے

حیدر علی نے جب یہ کارنامہ انجام دیا ہوگا تو یقیناً ان کے ذہن میں کسی انعام کی لالچ نہیں ہو گی مگر حکام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے حیدر علی کے کارنامے کو نہ صرف سراہیں بلکہ ایسے اقدامات کریں جس سے حیدر علی جیسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں