پاکستان کرکٹ ٹیم میں جنم لینے والے نئے تنازعے پر پی سی بی نے خاموشی توڑ دی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کے ماحول سے متعلق حقائق کے منافی رپورٹس گردش کر رہی ہیں۔ آئندہ بین الاقوامی اسائنمنٹس کے لیے اسکواڈ کا اعلان کیا جاچکا ہے اور اس سلسلے میں جو سمت اختیار کی گئی ہے ہمارے کپتان بابر اعظم مکمل طور پر اس کے پیچھے کھڑے ہیں۔کچھ کھلاڑیوں نے پاکستان کے سابق کپتان اور پی

سی بی بورڈ آف گورنرز کے موجودہ رکن رمیز راجہ کے ساتھ ملاقات کی ہے، جو بہت صحت مندانہ اور مثبت رہی ہے، اس ملاقات میں اتفاق کیا گیا ہے کہ ہمیں آئندہ سیریز میں کس برانڈ کی کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔لازم ہے کہ ہم سب مل کر اس اسکواڈ کو مستحکم کریں اور اس کی مکمل پشت پناہی کریں تاکہ اس کی تمام تر توجہ آئندہ ماہ شیڈول آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ پر مرکوز ہوسکے۔دوسری جانب ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس کے استعفے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں عرصہ دراز سے چمٹے عہدیداروں کی چھٹی کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا ذرائع کے مطابق مصباح الحق اور وقار یونس کے بعد اور بھی لوگوں کی چھٹی ہوگی۔ رمیز راجہ 13دسمبر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد ایکشن لیں گے۔ آنے والے دنوں میں استعفوں اور جبری رخصت کا سلسلہ متوقع ہے۔پی سی بی اور نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں نئے چہرے لائے جائیں گے۔ رمیز راجہ نئے آئیڈیاز رکھنے والی ٹیم کی مشاورت سے معاملات چلائیں گے،اکیڈمی میں بیٹنگ کوچ محمد یوسف سمیت اسٹاف میں

تبدیلیوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کے چیئرمین پی سی بی کا عہدہ باقاعدہ سنبھالنے سے پہلے ہی بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں اور قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ سابق فاسٹ بولر وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار ہوگئے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان عہدوں پر سابق ٹیسٹ کرکٹر ثقلین مشتاق اور سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کو عارضی طور پر تعینات کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں