پاکستان 75فیصد سے زائد سیفٹی معیار پر عملدرآمد یقینی بنانے میں کامیاب، عالمی ہوابازی کی تنظیم اکاؤنے پاکستان کو ایوی ایشن سیفٹی کے اہداف حاصل کرنے والے ممالک میں شامل کر لیا، ذرائع

بڑی کامیابی ، پاکستان ایوی ایشن سیفٹی کے اہداف حاصل کرنے والے ممالک ..

پاکستان 75فیصد سے زائد سیفٹی معیار پر عملدرآمد یقینی بنانے میں کامیاب، عالمی ہوابازی کی تنظیم اکاؤنے پاکستان کو ایوی ایشن سیفٹی کے اہداف حاصل کرنے والے ممالک میں شامل کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق عالمی ہوابازی کی تنظیم سول ایوی ایشن آرگنائزیشن اکاؤ نے پاکستان کو ایوی ایشن سیفٹی کے اہداف حاصل کرنے والے ممالک میں شامل کرلیا، پاکستان نے پچھتر فیصد سے زائد سیفٹی معیار پر عملدرآمد یقینی بنایا۔
عالمی ہوابازی کی تنظیم سول ایوی ایشن آرگنائزیشن اکاؤ نے سیفٹی آڈٹ رپورٹ 2020 جاری کردی ، رپورٹ 64 صفحات پر مشتمل ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہہوا بازی کے حادثات میں 2018 سے 2019 تک سولہ فیصد اضافہ ہوا اور حادثات کا تناسب دس لاکھ پروازوں میں دو اعشاریہ نو فیصد رہا۔

اکاؤ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایوی ایشن سیفٹی کے اہداف حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے ، پاکستان نے پچھتر فیصد سے زائد سیفٹی معیار پر عملدرآمد یقینی بنایا، پاکستان سمیت چھیالیس ممالک پچھتر فیصد سے زائد سیفٹی معیار پر عملدرآمد میں کامیاب ہوگئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سیفٹی معیار میں ایوی ایشن قوانین،عملے کی ٹریننگ، لائسنسنگ ، ایئرکرافٹ آپریشن، حادثے کی تحقیقات، نیوی گیشن سروسز شامل ہیںاکاؤ کے ممبران میں ایک سو ترانوے ممالک شامل ہیں ، رپورٹ کا مقصدایوی ایشن سیفٹی کے معیار کو بہتر بنانا ہے، اس رپورٹ میں پندرہ مارچ دو ہزار بیس تک کا سیفٹی آڈٹ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس یورپی ہوابازی کے نگراں ادارے ایازا نے پاکستانی پائلٹس اور ایئرلائنز کی یورپ آمد کے اجازت نامے کو معطل کر دیا اور اس طرح برطانیہ اور امریکہ میں بھی ایسے ہی اقدامات کے نتیجے میں پاکستانی ایئرلائنز کی پروازوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔


ایکاؤ نے اپنے خط میں ایسے لائسنسز کو معطل کرنے کی تجویز دی تھی جن کے بارے میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پائلٹ کی مطلوبہ قابلیت کو ایکاؤ کے ’اینیکس نمبر ایک‘ کے معیار سے مطابقت رکھنے والے پاکستان سول ایوی ایشن کے ضوابط، طریقہ کار اور پالیسیوں کے مطابق جانچا گیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ ایکاؤ نے مختصر مدت کے اصلاحی اقدامات میں کہا تھا کہ ’پاکستان کو اپنے لائسنسنگ کے نظام کو بہتر اور مستحکم بنانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ نئے لائسنس جاری کیے جانے سے قبل اور/یا معطل شدہ لائسنسوں کے استحقاق کو بحال کرنے سے قبل تمام ضروری مراحل اور طریقہ کار کو مدنظر رکھا جائے، تاکہ نظام میں موجود تضادات اور خرابیوں سے بچا جا سکے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں