کسی جماعت سے لامحدود توقعات وابستہ کرنا ہماری اپنی غلطی ہے، ہم نے پیپلزپارٹی سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی تھی۔ پیپلز پارٹی سے متعلق ہمیں بیک گراؤنڈ سامنے رکھنا چاہیے تھا۔سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا بیان

ن لیگ کو پیپلز پارٹی سے امیدیں لگا کر اپنی غلطی کا احساس ہو گیا

سینئر رہنما مسلم لیگ نون اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کسی جماعت سے لامحدود توقعات وابستہ کرنا ہماری اپنی غلطی ہے ان کی نہیں۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پیپلزپارٹی سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی تھی۔ پیپلز پارٹی سے متعلق ہمیں بیک گراؤنڈ سامنے رکھنا چاہیے تھا۔
کسی بھی سیاسی پارٹی کو دوسری پارٹی کے مفادات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل کے لئے مارجن رکھ کر بات کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کسی جماعت سے لامحدود توقعات وابستہ کر کے ہم نے غلطی کی۔اتنا میٹھا نہ ہو کہ کوئی کھا جائے اور اتنا کڑوا بھی نہ ہو کہ کوئی تھوک دے، درمیانہ رویہ ہونا چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن ایک پلیٹ فارم پر ہو تو فائدہ اٹھانے کی بہتر پوزیشن میں ہوگی، اپوزیشن تقسیم رہی تو سب نقصان میں رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی صدر شہباز شریف صاحب پارٹی کو لیڈ کر رہے ہیں اگلے الیکشن میں بھی پارٹی کو لیڈ کریں گے۔دوسری جانب چند روز قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاتھا کہ مسلم لیگ ن میں صرف شہبازشریف سے رابطہ اور بات چیت ہوسکتی ہے۔
نجی ٹی وی کو شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں جلد ملاقات پر اتفاق کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن مل کر انتخابی اصلاحات اور ای سی نئےممبرزپرلائحہ عمل بنائےگی جبکہ حکومت کے خلاف اتفاق رائےسےساتھ چلنے کی تجویزپر بھی غور کیا گیا۔
شہباز شریف نے بلاول بھٹو کی تجاویز پر مولانا فضل الرحمان اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کا عندیہ بھی دیا۔پی پی چیئرمین اور مسلم لیگ ن کے صدر نے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کم کرنےکی تجویز بھی دی، جس پر دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا اور آئندہ ہفتے ملاقات پر آمادگی کا اظہار کیا۔بلاول بھٹو نے واضح مؤقف اپنایا کہ مسلم لیگ ن میں شہباز شریف کے علاوہ کسی اور رہنما سے کوئی بات نہیں ہوگی۔ قبل ازیں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ شہباز شریف نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو یکجا کرنے کی کوششوں کا آغاز کرتے ہوئے

اپنا تبصرہ بھیجیں