امریکی انتباہ کے باوجود طالبان بگرام ایئربیس چین کو دینے پر راضی

کیا طالبان اسٹریٹجک اہمیت کے حامل بگرام ایئربیس کو چین کے حوالے کر دیں گے؟۔ یہ سوال ان دنوں امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چینی فوج صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی افغانستان میں سب سے بڑی امریکی فوجی تنصیب سے دستبرداری کے چند ہفتوں بعد

بگرام ہوائی اڈے پر منتقل ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔امریکی میڈیاکے مطابق ذرائع نے بتایاکہ چینی فوج امریکا کی طرف سے خالی کردہ فوجی اڈے بگرام پر فوج تعینات کرنے کی فزیبلٹی کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ ایئربیس بائیڈن انتظامیہ نے جولائی میں افغانستان سے مکمل انخلا سے قبل بند کر دیا تھا۔تاہم اس حوالے سے بیجنگ کے سینیر عہدیداروں نے کوئی بات نہیں کی کہ آیا وہ بگرام اڈے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔البتہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے کہا کہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ جعلی خبر ہے۔امریکی جرنیلوں اور قانون سازوں نے صدر بائیڈن کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس اڈے کو نہ چھوڑیں جو کہ چین کی مغربی سرحد پر سب سے بڑی امریکی سہولت ہے لیکن صدر بائیڈن انتباہ کے باوجود اس فوجی اڈے کو بھی خالی کرگئے۔ہائوس آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن مائیک والٹز نے کہا کہ اگرامریکا بحرالکاہل میں چینی حملوں کی زد میں آتا ہے تو چین کا تائیوان کے ارد گرد اپنے بحری اور میزائل اثاثوں پر توجہ مرکوز کا دوسرا محاذ ہوگا۔چین کی سرحد اور روس کی جنوبی سرحد پر واقع اس فوجی اڈے کو خالی کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ بائیڈن انتظامیہ ایران کے مشرقی حصے اور پاکستان کی ایٹمی اور غیر مستحکم سرحدوں کے ساتھ ایک اہم اسٹریٹجک قدم چھوڑ دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں