انڈین ہیکرز نے 7 دنوں تک ایف بی آر سسٹم ہیک کیا، شوکت ترین کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہاہے کہ افغانستان کی صورتحال غیر یقینی ہے اس کے ہمارے ملک پر کیا اثرات پڑیں گے، جائزہ لیا جارہا ہے۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے مغرب میں اتنی پذیرائی نہیں ، افغانستان کے ساتھ تجارت ڈالر میں نہیں ،روپیہ میں ہو گی،افغانستان کو ڈالر کی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیااورافغانستان کے زرمبادلہ کے دس ارب ڈالر روک لیے گئے،

پاکستان پر دباؤ پڑے گا،پاکستان کے ساتھ افغانستان کی تجارت بڑھے گی اور لین دین روپے میں ہوگا،اگلے چند ہفتوں میں چیزیں واضح ہونگی،افغانستان میں مختلف معمولات چلانے کیلئے پاکستان سے بھی لوگوں کو بھیج سکتے ہیں۔ جمعرات کو ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مالی سال2021-22 کے فنانس بل میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی جانب سے بھیجے گئے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان کے علاقے چاغی کی عوام کے ساتھ کسٹمز کلکٹریٹ کی طرف سے نا انصافی و امتیازی سلوک، 13 جولائی2021 کو منعقد ہونے والے سینیٹ اجلاس میں سینیٹر سید فیصل علی سبزواری کی جانب پیش کی گئی قرار داد برائے کم آمدن تنخواہ دار طبقے اور چھوٹے تاجروں کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ کے معاملے کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مالی سال2021-22 کے فنانس بل میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔وزیر خزانہ شوکت فیاض احمد ترین اور چیئرمین ایف بی آرڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگا ہ کیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اچھی سفارشات مرتب کی تھیں جن کو متعلقہ پراسس سے گزارا گیا بے شمار سفارشات شامل کی گئیں ہیں کچھ سفارشات کو جزوی طور پر شامل کیا گیا اور کچھ کو شامل بھی نہیں کیا گیا، کل 110 سفارشات تھیں جن میں 46 مخصوص اور 64 جنرل تھیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ

110 سفارشات میں سے 51 سفارشات کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 51 سفارشات میں سے کتنی جزوی شامل کی گئی ہیں اس کا تحریری طور پر جواب دیا جائے اور جن 59 کو شامل نہیں کیا گیا اس کی وجہ بھی بتائی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ادارے کی جانب سے جو تفصیلات فراہم کی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں