طالبان 200غیر ملکیوں کے انخلا پر رضامند ہو گئے

امریکی حکام نے دعوی کیا ہے کہ افغانستان میں 31 اگست کے بعد رہ جانے والے غیر ملکیوں کے انخلا پر طالبان رضا مند ہوگئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے کہا کہ افغانستان میں رہ جانے والے ان غیر ملکیوں میں 200 امریکی اور دیگر ممالک کے لوگ شامل ہیں۔

امریکی حکام نے مزید بتایا کہ 200 امریکی اور دیگر غیر ملکی شہری بذریعہ چارٹر پرواز افغانستان سے نکلیں گے۔امریکی حکام نے یہ بھی بتایا کہ امریکیوں و غیر ملکیوں کے اس انخلا کے لیے طالبان پر امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے دبائو ڈالا ہے۔دوسری جانب نئی افغان حکومت 11 ستمبر کو حلف اٹھائے گی، تقریب میں روس کے عہدے دار شریک ہوں گے، پاکستان نے نئی افغان حکومت کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ امید ہے کہ افغانستان میں نئے سیاسی انتظام کے تحت امن و استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔امریکا نے طالبان کابینہ کے بعض افراد پر خدشات کا اظہار کیا ، وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ طالبان حکومت میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں، جو امریکی اداروں کو مطلوب ہیں، طالبان کو نئی حکومت کے بعض ناموں کیلئے دنیا سے قانونی حیثیت حاصل کرنی پڑے گی۔سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب افغان عوام کی مدد کے لیے پرعزم ہے، افغان عوام بغیر بیرونی مداخلت کے جو راستہ بھی منتخب کریں گے سعودی عرب اس کی حمایت کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں