افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد نیٹو سپلائی سے منسلک ٹرانسپورٹرز پریشان

افغانستان پر طالبان کے کنٹرول اور امریکہ سمیت اتحادی افواج کی واپسی کے بعد نیٹو سپلائی سے منسلک آئل ٹینکرز مالکان اور ٹرانسپورٹرز شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ۔نجی ٹی وی کے مطابق اظہار خیال کرتے ہوئے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹرز نے تو اتنی دولت کمالی ہے کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ان لوگوں نے کئی

او رکاروبار بنا لئے ہیں۔کئی ایسے چھوٹے ٹرانسپورٹرز ہیں جن کی ایک یا دوگاڑیاں تھیں اورب ان کی گاڑیوں کی تعداد 10 سے 12 تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے پیسہ تو کمایا لیکن اس وقت وہ بھی پریشان ہیں کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ وہ اپنی گاڑیوں کا کیا کریں؟۔ان ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ آئل ٹینکر کے نصف قیمت میں بھی خریدار مشکل سے مل رہے ہیں، کئی لوگ گاڑیوں سے ٹینکر ہٹا کر کوئلے میں اور پانی ترسیل میں گاڑیاں لگا رہے ہیں لیکن ان گاڑیوں کا خرچہ زیادہ ہونے کی وجہ سے بچت کم ہے۔سب سے برا حال ان لوگوں کا ہے جن کی ایک یا دوگاڑیاں تھیں اور وہ ابھی گاڑیوں کی قسطیں ادا کررہے تھے کہ نیٹو سپلائی بند ہونے کے بعد وہ بری طرح پھنس گئے ہیں، قسط کی ادائیگی نہ کرنے کے باعث ان کی گاڑیاں بھی پکڑی جارہی ہیں۔نیٹو سپلائی سے منسلک ٹرانسپورٹرز کے مطابق نائن الیون کے بعد نیٹو فورسز نے افغانستان کا رخ کیا تو پاکستان سے انہیں تیل، گاڑیوں اور دیگر سامان کی کراچی بندرگاہ سے زمینی

راستے سے سپلائی شروع ہوئی، ابتدا ء میں چند سو گاڑیاں تھیں لیکن غیر معمولی منافع کو دیکھتے ہوئے گاڑیاں بڑھنے لگیں اور 2007 میں گاڑیوں کی تعداد ساڑھے 4 ہزار سے تجاوز کرگئی اور ڈرائیورز، کنڈیکٹرز، منشی سمیت مختلف افراد بڑے پیمانے پر روزگار میں لگ گئے تھے۔سروے کے مطابق اگر اس سپلائی سے مستفید ہونے والوں کا جائزہ لیا جائے تو نیٹو فورسز کو 20 سال تیل اور دیگر سامان کی سپلائی میں سب سے زیادہ کنٹریکٹرز نے کمایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں