جدہ میں 12 ملین بیکار ٹائروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مملکت کی سب سے بڑی ری سائیکلنگ فیکٹری قائم کی جائے گی جہاں ٹائروں کو جلا کر ان سے سیمنٹ تیار کیا جائے گا

پرانے ٹائر پھینکیں مت ، اب ان سے سیمینٹ تیار کیا جائے گا‘ منصوبے پر ..

سعودی عرب میں پرانے اور ناکارہ ٹائروں سے سیمنٹ بنانے کے منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ، جس کے تحت جدہ میں 12 ملین بیکار ٹائروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مملکت کی سب سے بڑی ری سائیکلنگ فیکٹری قائم کی جائے گی جہاں ٹائروں سے سیمنٹ تیار ہوگا ۔ اُردو نیوز کے مطابق اس منصوبے کے حوالے سے سعودی عرب کی ’الصفوۃ سیمنٹ کمپنی‘ کے چیئرمین انجینیئر مازن خیاط نے بتایا ہے کہ ٹائروں کو جلا کرسیمنٹ تیار کرنے کی بدولت ماحولیاتی آلودگی سے نجات حاصل ہو گی ، صرف یہی نہیں بلکہ ان سے ایک نئی چیز بھی تیار ہو جائے گی جو ملکی معیشت میں اہم اضافہ ہو گی ، اس کے لیے الصفوۃ سیمنٹ کمپنی اور جدہ میونسپلٹی کے مابین 20 سالہ معاہدہ ہوا ہے اور فیکٹری پر 39 ملین ریال کی لاگت آئی ہے، معاہدے کے تحت مقررہ مدت کے بعد مشینری بلدیہ کو منتقل ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جدہ کے کچرا گھر میں 12 ملین سے زائد ناکارہ ٹائر پڑے ہوئے ہیں ، جنہیں نامناسب طریقے سے ذخیرہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں مچھر بھی پیدا ہو رہے ہیں جب کہ ہر سال 2 ملین ٹائر جدہ کے کچراگھر پہنچ رہے ہیں ، اس منصوبے کے ذریعے آئندہ تین برس کے دوران 40 لاکھ ٹائروں سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب کویت سے ٹائروں کا ایک وسیع ذخیرہ سعودی سرحد کے قریب ایک نئے مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کو ری سائیکل کیا جائے گا جہاں ایک ری سائیکلنگ کمپنی ان پرانے ٹائروں کو استعمال کر کے رنگین فرشی ٹائلز بنا رہی ہے ، یہ کارخانہ پرانے ٹائروں کو کارآمد مصنوعات میں بدلنے کے لیے کام کر رہا ہے، جنہیں خلیجی ممالک اور ایشیا کو بھی برآمد کیا جائے گا ، اس پلانٹ نے جنوری 2021ء میں کام کا آغاز کیا تھا اور سالانہ 30 لاکھ ٹائروں کو ری سائیکل کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں