میں بالکل خیریت سے ہوں،کچھ احسان فراموش لوگ کل سے خبریں لگارہے ہیں کہ میں فوت ہوگیا ہوں،ابھی کئی سال زندہ رہوں گا تاکہ اُن کے دل جلا سکوں۔محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کا ویڈیو پیغام

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ویڈیو پیغام، موت کی خبریں دینے والوں پر برہم ..

ممتازایٹمی سائنسدان اور محسن پاکستانڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنی صحت کے حوالے سے ویڈیو پیغام جاری کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کل سے میری موت کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں، میں بالکل خیریت سے ہوں۔مجھے بھی کل سے بہت فون آ رہے ہیں لیکن اللہ تعالی کے کرم سے زندہ ہوں اور خیریت سے ہوں۔کچھ نمک حرام اور احسان فراموش لوگ کل سے میرے بارے میں بری بری باتیں کر رہے ہیں کہ میں فوت ہو گیا ہوں لیکن اللہ کا ہزار شکر ہے کہ میں خیریت سے ہوں۔

اللہ تعالی مجھے کئی سال زندہ رکھے گا تاکہ ان لوگوں کے دل جلا سکوں۔قبل ازیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے قوم سے اپیل کی ہے کہ ان کی صحتیابی کے لئے دعا کریں تاکہ وہ جلد از جلد صحت یاب ہو سکیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ میں نے دل و جان ، خون، پسینہ سے ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔ میرا اللہ میرا گواہ ہے میں جہاں چاہتا چلا جاتا اور کھرب پتی ہوجاتا لیکن مجھے پاکستان عزیز تھا اور اس ملک کی حفاظت و سلامتی کے لئے سب کچھ چھوڑ کر واپس اپنے وطن آ گیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ اس وقت میں فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہوں اور اس وقت لاہور میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے نام سے میگاپراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ میں اپنی آخری سانس تک قوم کی خدمت کرتا رہوں گا۔۔یاد رہے کہ قومی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبعیت ناساز ہونے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق منگل کو ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر 26 اگست کو کے آر ایل ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ترجمان کے مطابق طبعیت میں بہتری نہ آنے پر ان کو ملٹری اسپتال میں کووڈ وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اب اطلاع آئی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی طبیعت بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے۔
پاکستانی سائنسدانڈاکٹر عبدالقدیر خان قیام پاکستان سے قبل انڈیا کے شہر بھوپال میں پیدا ہوا، سنہ 1960 میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں دھات کاری کے مضمون میں گریجوایشن کی۔اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے مغربی جرمنی اور ہالینڈ چلے گئے۔ سنہ 1972 میں بیلجیئم کی کیتھولک یونیورسٹی آف لیوین سے میٹالرجیکل انجنیئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔جس کے بعد اپنی خدمات پاکستان میں سرانجام دیں ارو پاکستان کو جوہری طاقت بنایا جس وجہ سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں